مغربی بنگال: ریسٹورنٹ میں حلال گوشت کی فروخت پر بی جے پی کی ہنگامہ آرائی

مغربی بنگال کے ضلع نادیہ میں نیشنل ہائی وے 12 پر واقع بھٹ جنگلہ کے قریب ‘مدرز ہٹ’ (Mother’s Hut) نامی ایک مشہور ریسٹورنٹ پر بی جے پی کارکنان نے صرف حلال گوشت پیش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔ ۳۱ جولائی کو پیش آنے والے اس واقعے کے دوران بی جے پی اور ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ افراد نے ریسٹورنٹ کے اندر داخل ہو کر عملے اور گاہکوں سے بدتمیزی کی اور مبینہ طور پر حلال بمقابلہ جٹھکا گوشت کا تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ اس احتجاج کے باعث علاقے میں دو گھنٹے سے زائد وقت تک کشیدگی کی صورتحال برقرار رہی۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق بی جے پی کارکنان کی ایک بڑی تعداد اچانک ریسٹورنٹ میں داخل ہوئی اور وہاں کے عملے سے یہ سوال پوچھا کہ آیا یہاں فراہم کیا جانے والا گوشت حلال ہے یا جٹھکا۔ جب ریسٹورنٹ کے ملازمین نے تصدیق کی کہ وہ صرف حلال گوشت ہی سرو کرتے ہیں اور فی الحال جٹھکا گوشت کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے، تو مظاہرین نے عملے پر غصہ نکالا اور تلخ کلامی شروع کر دی۔ ریسٹورنٹ انتظامیہ نے اپنی کاروباری پالیسی اور سروس کی وضاحت کرنے کی کوشش کی لیکن مظاہرین نے ان کی ایک نہ سنی۔

بعد ازاں مظاہرین نے ریسٹورنٹ کے باہر جمع ہو کر تقریباً دو گھنٹے تک نعرے بازی اور مظاہرہ کیا۔ احتجاج کرنے والوں کا الزام تھا کہ ریسٹورنٹ ہندو گاہکوں کو پیشگی اطلاع دیے بغیر یا مینو کارڈ پر واضح طور پر درج کیے بغیر حلال گوشت فروخت کر رہا ہے۔ بی جے پی کے مقامی رکن ادے راج ناتھ نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے تمام کھانے کے مراکز پر یہ واضح طور پر لکھا جائے کہ وہ کس قسم کا گوشت سرو کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ان لوگوں کے لیے جٹھکا کا متبادل بھی رکھا جائے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی کرشنا نگر کوتوالی تھانے سے پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی۔ پولیس افسران نے فوری اقدامات کرتے ہوئے ریسٹورنٹ انتظامیہ اور مظاہرین کے ساتھ بات چیت کی اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچایا۔ پولیس کی بروقت مداخلت کے بعد احتجاج ختم کرایا گیا، جبکہ اس واقعے کے دوران کسی قسم کے تشدد یا جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

ہندوستان میں اقلیتی فرقے کے کھانوں کے طریقوں بالخصوص حلال کی تصدیق کو لے کر کچھ عرصے سے فرقہ وارانہ پولرائزیشن کی کوششیں تیز دیکھی جا رہی ہیں۔ معاشی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان کا ماننا ہے کہ کسی بھی نجی تاجر یا ریسٹورنٹ کا یہ قانونی حق ہے کہ وہ اپنی مارکیٹ اور صارفین کی مانگ کے مطابق پروڈکٹس فراہم کرے۔ بلاوجہ کے تنازعات اور ہنگامہ آرائی کے ذریعے مسلم کاروباری برادری اور حلال تصدیق شدہ مصنوعات کو نشانہ بنانا نہ صرف ملک کے ہم آہنگ ماحول کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ کاروباری آزادی پر بھی سوالیہ نشان قائم کرتا ہے۔

شیئر کریں۔