دہلی ہائی کورٹ نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے درج کیے گئے ایک مقدمے میں پانچ سال سے زائد عرصے تک جیل کاٹنے والے انڈر ٹرائل قیدی محمد شہزاد کمال کو باضابطہ ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس ارون بھاردواج پر مشتمل ڈویژن بنچ نے خصوصی این آئی اے عدالت کے مئی 2024 کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں ان کی ضمانت کی عرضی مسترد کر دی گئی تھی۔ محمد شہزاد کمال 31 اگست 2021 سے دہلی کی تہاڑ جیل میں عدالتی تحویل میں بند تھے، جن پر تعزیراتِ ہند کی دفعہ 121 کے علاوہ سخت انسدادِ غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعات 17، 18، 39 اور 40 کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
عدالتِ عالیہ نے ضمانت منظور کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ ملزم نے پانچ سال سے زیادہ کا طویل عرصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارا ہے جبکہ قانونی طور پر وہ اب بھی بے قصور تصور کیا جاتا ہے۔ بینچ نے مشاہدہ کیا کہ اس مقدمے کا ٹرائل قریب میں مکمل ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، اور ایسی غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی کے دوران مسلسل قید رکھنا دراصل جرم ثابت ہونے سے قبل ہی سزا دینے کے مترادف ہوگا۔ عدالت نے اس پہلو پر بھی غور کیا کہ اسی کیس کے دیگر شریک ملزمان کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے، اس لیے مساوات اور برابری کا اصول بھی ملزم کے حق میں جاتا ہے۔
استغاثہ کی جانب سے پیش کی جانے والی مبینہ مجرمانہ چیٹس کا جائزہ لیتے ہوئے عدالت نے نشاندہی کی کہ ضمانت کے مرحلے پر ایسا کوئی حتمی ثبوت ریکارڈ پر موجود نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ وہ متنازع پیغامات خود محمد شہزاد کمال نے بھیجے تھے یا وہ پیغامات براہِ راست انہی کو موصول ہوئے تھے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ یو اے پی اے کی کڑی دفعات کے باوجود آئین کی دفعہ 21 کے تحت ہر شہری کو حاصل فوری انصاف اور منصفانہ ٹرائل کا بنیادی حق معطل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ صراحت بھی کی کہ یہ قانونی مشاہدات محض ضمانت کی درخواست نمٹانے کی حد تک ہیں اور ان سے کیس کے بنیادی میرٹ پر کوئی منفی یا حتمی اثر نہیں پڑے گا۔
ہائی کورٹ نے شہزاد کمال کی رہائی کے لیے مخصوص شرائط عائد کی ہیں۔ انہیں 50 ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ اور اتنی ہی رقم کے دو ضامن جمع کروانے کا پابند کیا گیا ہے، جبکہ اپنا پاسپورٹ سرنڈر کرنا ہوگا اور وہ پیشگی اجازت کے بغیر ملک چھوڑ کر نہیں جا سکیں گے۔ عدالتی احکامات کے تحت وہ اتر پردیش کے ضلع ہاپوڑ کی حدود سے باہر جانے کے مجاز نہیں ہوں گے، انہیں مقدمے کی سماعت پر باقاعدگی سے حاضر ہونا پڑے گا اور متعلقہ این آئی اے برانچ میں وقتاً فوقتاً حاضری درج کرانا ہوگی۔ اس کے علاوہ گواہوں یا شریک ملزمان سے رابطے، میڈیا میں بیانات جاری کرنے اور شواہد پر اثرانداز ہونے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، جن کی خلاف ورزی پر ضمانت فوری طور پر منسوخ کی جا سکتی ہے۔
این آئی اے کا دعویٰ رہا ہے کہ شہزاد کمال حرکت الحرب الاسلام سے جڑے ہوئے تھے اور وہ تنظیم کی سرگرمیوں کے لیے مبینہ فنڈز فراہم کرتے تھے۔ ان تمام الزامات کی حقیقت اب خصوصی این آئی اے عدالت کے باضابطہ ٹرائل کے دوران پرکھی جائے گی جہاں وکیل جواہر راجہ، ارچت کرشنا، تمنا پنکج، نتائی ہندوجا، اشان گوئل اور آشوتوش شکلا نے عدالت میں شہزاد کمال کا بھرپور دفاع کیا۔ انسانی حقوق کے قانونی ماہرین کے نزدیک یہ فیصلہ اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ سنگین الزامات اور سخت ترین قوانین کے تحت بلاجواز اور طویل عرصے تک قید رکھے جانے والے مسلم نوجوانوں کے آئینی حقوق اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کی توثیق کرتا ہے۔




