مغربی بنگال اسمبلی نے پیر کے روز ریاست میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے تحفظات سے متعلق قوانین میں ترمیم کے لیے دو اہم بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیے ہیں۔ ان نئے قوانین کے تحت کلکتہ ہائی کورٹ کے مئی 2024 کے فیصلے کی تعمیل کا حوالہ دیتے ہوئے 77 مسلم برادریوں کو او بی سی کی فہرست سے مکمل طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ریاست میں او بی سی کے لیے مختص کل تحفظات کے کوٹے کو بھی 17 فیصد سے یکسر گھٹا کر صرف 7 فیصد کر دیا گیا ہے۔ پسماندہ طبقات کی ترقی کے وزیر گوری شنکر گھوش کی جانب سے پیش کیے گئے ان بلوں کے حق میں 186 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ پسماندہ مسلم طبقات کے حقوق کی وکالت کرنے والے 17 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ ترنمول کانگریس کے باغی ارکان نے اس موقع پر ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
وزیر گوری شنکر گھوش نے بل پر بحث کا جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ ترامیم کسی سیاسی ایجنڈے کا حصہ نہیں بلکہ ہائی کورٹ کی ہدایات کے عین مطابق کی گئی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست کی سابقہ حکومت نے بغیر کسی سائنسی اور سماجی سروے کے محض سیاسی فائدے کے لیے ان برادریوں کو او بی سی لسٹ میں شامل کیا تھا، جس سے مبینہ طور پر صرف مسلم کمیونٹی کو فائدہ پہنچ رہا تھا۔ سرکاری موقف کے مطابق، پرانی فہرست میں شامل 113 ذیلی گروپوں میں سے صرف 66 کو برقرار رکھا گیا ہے جن کا اندراج مناسب طریقہ کار کے تحت ہوا تھا۔ تاہم، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جولاہ، فقیر، پہاڑیا مسلم، حجام اور چودلی جیسی چند مخصوص مسلم برادریاں اب بھی اس نئی فہرست کا حصہ رہیں گی۔
ریاستی حکومت کی اس بڑی کارروائی کے بعد اب مسلم برادریوں کے ہزاروں نوجوانوں اور طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے جو تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں اس کوٹے کے سہارے آگے بڑھ رہے تھے۔ پسماندہ طبقات کے کمیشن کو اب نئے سرے سے سروے کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، لیکن اس عبوری دور میں مسلم پسماندہ طبقات کے لیے تعلیمی اور روزگار کے مواقع شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ وزیر نسیتھ پرامانک نے حکومتی اقدام کا دفاع کرتے ہوئے ماضی کی حکومتوں پر خوشامدانہ سیاست کا الزام لگایا اور کہا کہ اس فیصلے سے ان طبقات کو حق ملے گا جن کی حق تلفی ہو رہی تھی۔
دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور مسلم اقلیتی تنظیموں نے اس قانون سازی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسلم دشمنی پر مبنی اور غریب پسماندہ مسلمانوں کو معاشی و تعلیمی طور پر اپاہج کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ سی پی آئی (ایم) کے سینئر رہنما محمد سلیم اور آئی ایس ایف کے رکن اسمبلی نوشاد صدیقی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر کلکتہ ہائی کورٹ نے طریقہ کار کی بنیاد پر پرانی فہرست کو منسوخ کیا تھا، تو موجودہ حکومت کی یہ آئینی ذمہ داری تھی کہ وہ فوری طور پر نیا سروے کرا کر ان غریب پسماندہ برادریوں کے حقوق کا تحفظ کرتی، نہ کہ ایک ہی جھٹکے میں لاکھوں لوگوں کو تحفظات سے محروم کر کے کوٹہ ہی کم کر دیتی۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ماہرینِ قانون کا ماننا ہے کہ اس قانون سازی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور ہندوستان کے آئین میں درج سماجی انصاف کے اصولوں کے منافی دکھائی دیتا ہے۔ جہاں ایک طرف بی جے پی حکومت اسے انتخابی شفافیت اور میرٹ کی بحالی قرار دے رہی ہے، وہیں دوسری طرف مسلم برادری میں اس فیصلے کے بعد شدید بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس پایا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس قانون کے خلاف قانونی اور عوامی سطح پر احتجاجی تحریکیں شروع ہونے کے قوی امکانات ہیں۔




