کراکس/واشنگٹن (فکروخبرنیوز) وینزویلا میں آج اس وقت شدید ہلچل مچ گئی جب دارالحکومت کراکس سمیت ملک کے مختلف حصوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ بعد ازاں ریاستہائے متحدہ نے تصدیق کی کہ اس نے وینزویلا میں حملے کیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دھماکوں کے بعد آسمان کی طرف اٹھتے دھوئیں کے بادل اور متعدد عمارتوں میں آگ لگنے کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے دفتر نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق سکیورٹی اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ حساس تنصیبات کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک سنسنی خیز بیان میں دعویٰ کیا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ مار-اے-لاگو سے جلد ایک اہم پریس کانفرنس کریں گے۔
تاہم وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگوز نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر نکولس مادورو اور خاتونِ اول سیلیا فلورس کے مقام کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا،”ہمیں صدر اور خاتونِ اول کی موجودہ صورتحال کا علم نہیں، ہم ان کی زندگی کا ثبوت مانگتے ہیں۔”
ادھر روس، ایران اور وینزویلا کے پڑوسی ممالک سمیت کئی عالمی طاقتوں نے وینزویلا پر امریکی حملوں کی سخت مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
(مختلف ذرائع کے حوالے سے)
