شاملی تبدیلی مذہب کیس: اہلیہ اور سسر کے خلاف ایف آئی آر کے بعد ایوش ملک کی دوبارہ ہندوازم میں واپسی

اتر پردیش کے ضلع شاملی سے تعلق رکھنے والے بی فارمیسی گریجویٹ ایوش ملک نے ایک مسلم خاتون کے ساتھ پسند کی شادی کے لیے اسلام قبول کرنے کے بعد اب دوبارہ ہندوازم میں واپسی کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایوش ملک کے والد کی جانب سے لڑکی اور اس کے اہل خانہ کے خلاف اتر پردیش کے سخت اینٹی کنورژن (تبدیلیِ مذہب مخالف) قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرائے جانے اور پولیس کی جانب سے گرفتاریوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایوش ملک کو اپنے آبائی گھر میں والدین کے ساتھ ہندو مذہبی رسومات ادا کرتے ہوئے اور اپنے فیصلے پر خاندان سے جذباتی معافی مانگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق ایوش ملک نے سال 2023 میں دہلی میں ایک فزیو تھراپسٹ چاندنی قریشی سے محبت کی شادی کی تھی، جس کے لیے انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کر کے اپنا نام محمد علی رکھا اور باقاعدہ نکاح کیا۔ تاہم، ایوش کے خاندان نے اس شادی اور تبدیلیِ مذہب کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ایوش کے والد دیوراج ملک نے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے کو اثر و رسوخ کے ذریعے تبدیلِ مذہب کے لیے مائل کیا گیا اور یہ ان کی کروڑوں روپے کی خاندانی جائیداد پر قبضہ کرنے کی ایک مبینہ سازش کا حصہ تھا۔ یوگ سادھنا آشرم کے یشویر مہاراج، جنہوں نے اس معاملے کو مہم کے طور پر اٹھایا تھا، نے تصدیق کی ہے کہ نوجوان نے اب گھر میں موجود تمام اسلامی اشیاء کو ہٹا کر دوبارہ ہندو طرزِ عبادت اختیار کر لیا ہے۔

اس خاندانی تنازع نے اس وقت قانونی اور حساس رخ اختیار کر لیا جب اتر پردیش پولیس نے ایوش کے والد کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے 7 جون کو چاندنی قریشی، ان کے والد اور دیگر اہل خانہ کو ریاست کے اینٹی کنورژن قانون اور انڈین پینل کوڈ کی مختلف دفعات بشمول دھوکہ دہی اور بھتہ خوری کے تحت گرفتار کر لیا۔ پولیس انتظامیہ نے اس حساس معاملے کی گہرائی سے انکوائری کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے جو جائیداد کے تنازع اور دیگر الزامات کی جانچ کر رہی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنان اور قانونی ماہرین ایسے معاملات میں اینٹی کنورژن قوانین کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں، جہاں بالغ افراد اپنی آزاد مرضی سے شادی اور مذہب کا انتخاب کرتے ہیں لیکن بعد میں خاندانی اور پولیسی دباؤ کے باعث معاملات پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ مسلم کمیونٹی سے وابستہ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ دو بالغ افراد کے باہمی فیصلے کو مجرمانہ رنگ دینا اور پورے خاندان کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس کیس میں بھی ایک طرف جہاں جائیداد کے تحفظ کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف ایک پورا مسلم خاندان قانونی کارروائی کی زد میں ہے۔

ایس آئی ٹی کی تفتیش فی الحال جاری ہے اور چاندنی قریشی کے اہل خانہ کی جانب سے قانونی دفاع کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد اور ایوش ملک کے بیانات اس کیس کے حتمی رخ کا تعین کریں گے۔ اتر پردیش میں بین المذاہب شادیوں کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات اور اقلیتی برادری کے خلاف سخت قوانین کے نفاذ کا یہ معاملہ ایک بار پھر قانونی اور سماجی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

شیئر کریں۔