منگلورو (فکروخبر نیوز) دکشینا کنڑ ضلع کے انچارج اور ریاستی وزیرِ صحت یوٹی قادر نے NEET امتحان کے مبینہ پیپر لیک ، احتجاجی طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور اپوزیشن رہنماؤں کی حراست کے معاملے پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ منگلورو کے سرکٹ ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں عوام کو اپنی آواز بلند کرنے کا حق حاصل ہے اور طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ NEET امتحان سے متعلق پیدا ہونے والے تنازع اور بے یقینی کی صورتِ حال نے ملک بھر کے طلبہ کو ذہنی دباؤ سے دوچار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ اور ان کی حمایت کرنے والے قائدین کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ یو ٹی قادر نے دعویٰ کیا کہ مرکزی سطح پر امتحانی نظام میں شفافیت کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوئے ہیں اور اس کے نتیجے میں مختلف ریاستوں کے طلبہ متاثر ہو رہے ہیں۔
وزیرِ صحت نے مطالبہ کیا کہ اگر مرکزی حکومت شفاف اور قابلِ اعتماد امتحانی نظام کو یقینی بنانے میں ناکام رہتی ہے تو NEET جیسے امتحانات کے انعقاد کا اختیار دوبارہ ریاستوں کے سپرد کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستیں اپنے طلبہ کے مفادات اور مقامی تعلیمی ضروریات کو بہتر انداز میں سمجھتی ہیں۔
یو ٹی قادر نے مرکزی وزیرِ تعلیم سے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے NEET تنازع سے متاثر طلبہ کے اہلِ خانہ کے لیے مناسب معاوضے اور پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پیپر لیک کے اصل ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ طلبہ کو انصاف ملنے تک کانگریس پارٹی ضلع اور تعلقہ سطح پر اپنی احتجاجی مہم جاری رکھے گی۔




