تحریر : مولانا عبدالمتین منیری (بھٹکل)
آج مورخہ 7/ نومبر علی الصبح برطانیہ سے مولانا محمد عیسی منصوری کے اس دنیا سے رحلت کی خبر نے مغموم کردیا، ابھی ایک ہفتے پہلے کیرانہ جانا ہوا تھا تو وہاں انہیں جاننے والے چند احباب سے ہم نے دریافت کیا تھا۔ کہ بہت دنوں سے مولانا کی کوئی خبر نہیں آئی ہے، آج جو خبر آئی تو ان کے دائمی سفر پر جانے ہی کی خبر تھی۔ مولانا سے ہماری پہلی ملاقات کوئی بیس پچیس سال قبل مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے ساتھ دبی میں ہوئی تھی، مولانا ثانی الذکر کی صلاحیتوں سے بڑے متاثر تھے، اور ان کو ملکوں ملکوں متعارف کرانے کے فکر لگے ہوئے تھے۔ اس زمانے میں مولانا سلمان ندوی مرحوم کی شخصیت ہی کچھ ایسی تھی کہ احباب نے بہت کچھ امیدیں آپ سے باندھ رکھیں تھیں۔ "تھب الریاح بما لا تشھی السفن”مولانا کی باتوں سے محسوس ہوتا تھا کہ جہانیاں جہاں گشت ہیں، اور بات بھی کچھ ایسی ہی تھی، زندگی میں انہیں کچھ ایسے سنہرے موقعے ملے تھے، ابھی بڑے حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃ اللہ ابھی بقید حیات تھے توآپ کی زندگی میں بہت کم عمری ہی میں مرکز نظام الدین دہلی میں رہنے اور مرکز کی مسجد میں انہیں امامت کرنے کا موقعہ ملا تھا، پھرآپ مدت تک مرکز تبلیغ سے جڑے رہے، کچھ عرصہ بعد حضرت جی مولانا انعام الحسن کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ایما پر آپکی لندن مرکز کی مسجد میں تقرری ہوئی تھی،برطانیہ کا آزاد ماحول، اس پر گجرات سے تعلق ، اس پر ان بزرگوں سے نسبت بھی قائم ہوجائے تو کیا کہنے!۔ کیسے ناممکن تھا کہ آپ سے تعارف کا حلقہ وسیع نہ ہو۔ پہلے آپ مرکزتبلیغ سے جڑے رہے، پھر آپ نے اپنی دعوتی و علمی خدمات کا دائرہ وسیع کردیا، ایک مسلم فورم بھی قائم کیا تھا، جو آپ کی ملی و اجتماعی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا ،جہاں گزشتہ نصف صدی کے دوران برصغیر کی اور عالمی بڑی بڑی شخصیات کی میزبانی کا آپ کو شرف حاصل ہوا، اورجو آپ کا تعارف بن گیا۔وہ ایک عالم اور دانشور فرد تھے، ان کے سوچنے کا انداز دعوتی علمی وتحقیقی بھی ہوا کرتا تھا، ان کی باتیں سننے والوں کو کافی گہرائی تک پہنچادیتی تھیں۔ انہیں نہ صرف گجرات کے مسلمانوں بلکہ عالم اسلام کے دیگر علاقوں کے مسلمانوں کی نفسیات کا گہرا علم تھا۔ وہ علماء و محققین کو بڑی باریک بینی سے دیکھتے آئے تھے۔ اور ان پر بے لاگ تبصرہ کرنے سے نہیں چوکتے تھے، جن سے ان کے معتقدین جز بز بھی ہوجاتے تھے۔انہیں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے بڑی عقیدت تھی۔ اور آپ کی فکر سے بڑے متاثر تھے۔ اس کے علاوہ معاصر علماء میں سے حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ، ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتھم کے بھی بڑے معترف تھے، انہیں ان حضرات کی ضیافت کا بھی موقعہ ملاتھا، ان کی رائے تھی کہ قاضی صاحب نکاح وطلاق اور پرسنل لا سے متعلق فقہی مسائل میں اپنی مثال اپ تھے، ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ دستوری اور بین الممالک قانون کے امور میں، اور مولانا محمد تقی عثمانی صاحب بیوع معاملات اور بنکنگ میں،آخر الذکر کے بارے میں ان کا تاثر تھا اپنے والد ماجد کی کسی رائے کی موجودگی میں پھر ان کی تحقیق آگے نہیں بڑھتی،جب کہ ان پر وسعت فکری اور تحقیق مزید کی ضرورت باقی رہتی ہے، ممکن ہے ان کا یہ تاثر درست نہ ہو۔ وہ اہل اللہ اور تصوف کے منکر نہیں تھے، لیکن جس طرح بعض حلقوں میں نسبتوں اور خلافتوں کا تذکرہ تزکیہ نفس سے نکل کر فخر ومباہات تک پہنچ گیا ہے، اس پر وہ بہت نالاں تھے، مولانا سلمان مرحوم جنوبی افریقہ کا دورہ کرنا چاہتے تھے، مولانا منصوری کے وہاں بڑے اچھے مراسم تھے، آپ کو ان سے کہتے سنا کہ جنوبی افریقہ والے بڑی نسبتوں اور خلافتوں کے بغیر آپ کی صرف دھواں دھار تقریروں سے متاثر نہیں ہونگے، میں آپ کو وہاں کسی بڑی شخصیت سے خلافت ملنے کے بعد دھوم دھام سے لے جاؤں گا۔ وہ گجرات کے مسلمانوں میں رائج بعض عصبیتوں سے بڑے نالاں تھے، وہ کہتے تھے کہ لندن اور افریقہ میں بھی یہ عصبیتیں گھن کی طرح مسلمانوں کو چاٹ رہی ہیں،وہاں بھی ہندو پاک ہی کا ماحول ہے، وہی اختلافات وہی آپسی نفرتیں، معلوم نہیں کہ یہ بات کہاں تک سچ ہے کہ ،وہ کہتے تھے کہ بھروچ اور سورت والے ایک ملت ،ایک ریاست ، ایک ملک میں ہونے کے باوجود برطانیہ میں بیٹھ کربھی صرف اپنے اپنے علاقے کے مدرسوں کا تعاون کرتے ہیں۔ تعلیم وتربیت کے سلسلے میں بھی ان کی مخصوص رائے تھی وہ کہتے تھے کہ انگینڈ میں ہمارے دارالعلوم انگریزی میں درس نظامی پڑھاتے ہیں، رائج الوقت انگریزی زبان اور معاشرے کو درپیش مسائل سے یہاں کے فارغین کی واقفیت بڑی محدود ہوتی ہے۔ یہ اپنے حلقوں اور دائروں تک محدود رہتے ہیں،اور اپنے چند معتقدین کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، انگلستان کے مزاج اور نفسیات کو سمجھ کران کی زبان میں دعوت دین کی قابلیت ان میں نہیں ہوتی۔ ہم نے دیکھا کہ وہ لگی لپٹی کہنے کے عادی نہیں تھے، سچی بات کہنے میں وہ مروت نہیں کرتے تھے، آج ہم نے آپ کے رحلت پر ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کی تحریر دیکھی، جس میں آپ سے دیرینہ تعلقات کا ذکر کیا ہے۔ لیکن ہم نے منصوری صاحب کو آج سے ربع صدی پیشتر ڈاکٹر صاحب سے شاکی دیکھا، وہ زمانہ پہلے ڈاکٹر صاحب کے آکسفورڈ اسلامی سنٹر سے بدگمان سے ہوگئے تھے۔ اور یہاں پر اثرانداز ہونے والی فکر کو ملاوٹ والی اسلامی فکر سمجھ رہے تھے، اور حضرت مولانا علی میاں اور متعلقیں تک اپنی شکایات پہچانے کا لوگوں کو کہ رہ رہے تھے۔ہماری نظر میں یہ بڑے دل گردے کی بات تھی، اور کوئی صحیح الفکر ہی یہ بات کہ سکتا تھا۔ آخری عمر میں تبلیغی تحریک میں امارت اور مشاورت کی بحث چھڑنے اور پھر جماعت کے بزرگوں میں آپسی اختلافات اور مرکزوں پر جھگڑوں سے وہ بہت متاثر ہوگئے تھے، سنا ہے کہ وہ امارت کی تائید میں تیغ براں بن گئے تھے، چونکہ ہمیں ان امور میں زیادہ دلچپسی نہیں ہے، لہذا ان کی پوری تحریریں پڑھنے یا ان کے بیانات سننے کا ہمیں موقعہ نہیں ملا۔ شاید اس موضوع پر ہمارا کچھ بولنا درست بھی نہ ہو، لیکن ان کے انتقال کے بعد جس طرح بعض احباب نے ان کے موقف کی بنیاد پرصرف آپکے اس موقف کو آپ کی شناخت بنادیا ہے ، یہ بات ہمیں اچھی نہیں لگی۔ہماری ناقص رائے میں امارت اور مشاورت کا اختلاف ایک تنظیمی، اور خاندانی مسئلہ ہے، اسے خالصتا عقیدہ کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے کسی ایک ہی شخص کے بیانات کے خلاف فتاوی کافی نہیں، اس کے لئے تبلیغی تحریک سے وابستہ ابتک کے اکابر اور ممتاز مبلغین اور داعیوں کے بیانات اور تحریروں کو جمع کرکے باریک بینی سے ان کے تجزیہ اور موازنہ کی ضرورت ہے۔ اور یہ کہ امیر جماعت کی جن باتوں پر اعتراض کیا جاتا ہے ان کی نظیریں ان اکابر و داعیان کے یہاں تلاش کرنا اہمیت کا حامل ہے۔اگر اس سلسلے کی چند نظیریں ہی دستیاب ہوں تو پھر کسی ایک پر حکم کے نفاذ سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہونگے۔ بہتر ہے کہ اس اختلاف کو ہم تنظیمی اور خاندانی تک محدود سمجھیں، اس کے دائرہ کار کو مزید وسعت نہ دیں، اور جہاں تک مرحوم کا تعلق ہے ان کے نیک اعمال کی قبولیت اور ان کی لغزشوں کی مغفرت کی دعا کریں۔




