اسرائیل اور امریکا کا ایران پر مشترکہ حملہ، تہران میں مواصلاتی نظام متاثر، اسرائیل میں ہنگامی حالت نافذ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے غیر ملکی نشریاتی ادارے Al Jazeera کو بتایا ہے کہ ایران پر حالیہ حملے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی کا حصہ تھے۔

اطلاعات کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے مختلف علاقوں میں موبائل فون سروس معطل ہو گئی ہے اور شہریوں کو کال کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سروس کی بندش کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم حکام کی جانب سے باضابطہ بیان تاحال سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے شہریوں کو قریبی پناہ گاہوں کے قریب رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران ان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور یہ کارروائی اسی پالیسی کے تحت کی گئی ہے۔

قطر میں قائم Arab Centre for Research and Policy Studies کے ایرانی مطالعاتی شعبے کے ڈائریکٹر اور Georgetown University سے وابستہ پروفیسر مہران کامروا نے کہا ہے کہ اسرائیل ماضی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ حملہ بھی ممکنہ طور پر اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق امریکی صدر Donald Trump کی پالیسیوں اور خطے میں فوجی تیاریوں نے حالات کو اس نہج تک پہنچایا جہاں واشنگٹن کے لیے پیچھے ہٹنا مشکل ہو گیا۔

تاحال ایران کی جانب سے اس حملے پر باضابطہ اور تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو خطہ ایک وسیع تر تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے عالمی سیاسی اور معاشی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔