نیویارک : امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی، معاہدہ طے پانے اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولنے کے عبوری معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ پیر کے روز اس تاریخی فیصلے کا اعلان ہوتے ہی عالمی منڈیوں میں زبردست تیزی دیکھی گئی، جس سے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی، افراط زر (مہنگائی) اور شرح سود پر مزید دباؤ بڑھنے کے خطرات اور خدشات کافی حد تک کم ہو گئے ہیں۔
اس بڑے فیصلے سے عالمی مارکیٹ میں اچانک ہلچل مچ گئی ہے، جس کے براہِ راست اثرات خام تیل اور سونے کی قیمتوں پر دیکھے جا رہے ہیں۔ معاہدے کا اعلان ہوتے ہی بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتیں گر گئیں، جبکہ سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بٹ کوائن (Bitcoin) گزشتہ تقریباً دو ہفتوں میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور عالمی ایکوئٹی شیئرز بھی آگے بڑھے ہیں۔
تیل کی مارکیٹ نے اس سفارتی پیش رفت پر فوری ردعمل ظاہر کیا، جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت 5.3 فیصد تک گر کر 83 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی مختصر وقت کے لیے 80 ڈالر سے نیچے گر گئی۔ اس کے برعکس متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سمیت خلیجی ممالک میں سونے کی قیمتوں نے اونچی اڑان بھر لی ہے۔ اتوار کو 508.50 درہم کے مقابلے پیر کی شام 4 بجے مارکیٹ میں 24 قیراط سونا 522.75 درہم فی گرام تک پہنچ گیا۔ اسی طرح 22 قیراط سونے کی قیمت بھی 470.75 درہم سے بڑھ کر 484 درہم فی گرام ہو گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس عبوری معاہدے سے آنے والے دنوں میں عالمی تجارتی سرگرمیوں کو بڑی راحت ملے گی۔




