نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اور حیدرآباد سے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق مرکزی حکومت کی اعلیٰ سطحی کمیٹی (HLCDC) کی کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ریاستوں سے مذہبی بنیادوں پر ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش دراصل مسلم برادری کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔
یہ تنازع ان خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر کی سربراہی میں قائم ڈیموگرافک کمیٹی نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے گزشتہ 15 سال کا تفصیلی ڈیٹا طلب کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کمیٹی نے پیدائش کی رجسٹریشن، اسکولوں میں داخلے، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور جائیداد کی خرید و فروخت کا مذہب وار ڈیٹا مانگا ہے۔ اس کے علاوہ اضلاع میں عبادت گاہوں کی تفصیلات اور آدھار، ووٹر آئی ڈی نیز راشن کارڈ کی رجسٹریشن میں غیر معمولی اضافے کی معلومات بھی طلب کی گئی ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے ایک بیان میں اویسی نے کہا کہ حکومت نے اس سے قبل مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی حالت پر مبنی تفصیلی ڈیٹا فراہم کرنے کے مطالبات کو مسترد کر دیا تھا، لیکن اب گاڑیوں کی ملکیت اور جائیدادوں کی خریدو فروخت کا حساب مذہبی بنیادوں پر کیوں لگایا جا رہا ہے؟ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس کارروائی کا مقصد بہتری کے لیے پالیسی سازی نہیں بلکہ اقلیتوں پر مزید پابندیاں عائد کرنا ہے۔
دوسری جانب وزارت داخلہ کے مطابق اس اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام 26 مئی 2026 کو عمل میں آیا تھا، جس کا بنادی مقصد غیر قانونی نقل مکانی سے پیدا ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنا اور اس کے حل کے لیے تجاویز دینا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کئی ریاستی حکومتوں کو اس قسم کا ڈیٹا مرتب کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے، کیونکہ سرکاری دفاتر میں عمومی طور پر معلومات مذہب کی بنیاد پر نہیں رکھی جاتیں۔
اویسی نے اس مشق کو ووٹنگ فہرستوں کے خصوصی جائزاتی عمل (SIR) اور بعد ازاں این آر سی (NRC) سے جوڑنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر کمیٹی کا دائرہ کار صرف آبادیاتی تبدیلیوں پر پالیسی ساز تجاویز تیار کرنے تک محدود بتایا گیا ہے۔




