پانچ نابالغ مسلم لڑکیوں کے خلاف تبدیلی مذہب قانون کے تحت کیس درج

مرادآباد (اتر پردیش
اتر پردیش کے مرادآباد ضلع میں پانچ نابالغ مسلم لڑکیوں کے خلاف ریاست کے اینٹی کنورژن قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے اپنی 16 سالہ ہندو سہیلی کو زبردستی برقعہ پہننے اور مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ تاہم پولیس کی اپنی ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لڑکی نے برقعہ اپنی مرضی سے پہنا تھا اور مذہبی تبدیلی سے متعلق کوئی مجرمانہ ثبوت نہیں ملا۔

یہ واقعہ دسمبر میں مرادآباد ضلع کے بلاری قصبے میں پیش آیا، جو بعد میں اُس وقت منظرِ عام پر آیا جب لڑکی کے بھائی کی شکایت پر پولیس نے کیس درج کیا۔ پانچوں نابالغ لڑکیوں کو اتر پردیش پروہیبیشن آف اَن لا فل کنورژن آف ریلیجن ایکٹ کی دفعات 3 اور 5(1) کے تحت نامزد کیا گیا ہے، جن میں دھوکہ، جبر، دباؤ یا لالچ کے ذریعے مذہبی تبدیلی کو جرم قرار دیا گیا ہے۔

مرادآباد (دیہی) کے ایس پی کنور آکاش سنگھ کے مطابق معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ لڑکی کے بھائی نے الزام لگایا کہ اس کی بہن چند ہفتوں سے ایک لڑکی کے ساتھ میل جول رکھتی تھی اور دیگر لڑکیوں کے ساتھ برقعہ پہن کر باہر گئی، جس پر انہیں “غلط نیت” کا شبہ ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ لڑکی کو اسلام قبول کرنے کے لیے ذہنی دباؤ ڈالا گیا۔

تاہم، سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کے حوالے سے مرادآباد پولیس نے 16 جنوری کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لڑکی نے اپنے بھائی سے بچنے کے لیے خود برقعہ پہنا تھا۔ پولیس کے مطابق نہ تو کسی زبردستی کا ثبوت ملا اور نہ ہی مذہبی تبدیلی سے متعلق کوئی حقیقت سامنے آئی۔

ایک پولیس افسر کے مطابق لڑکیاں ایک ریستوران کی طرف جا رہی تھیں، جو لڑکی کے بھائی کی دکان کے قریب تھا، اسی لیے “پہچان سے بچنے” کی غرض سے برقعہ پہنا گیا ہو سکتا ہے۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ گمراہ کن ویڈیوز اور دعوے پھیلانے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔