ضمانت نہ ملنے کے بعد عمر خالد کا جذباتی پیغام: “یہی زندگی ہے

دہلی فسادات سازش کیس میں ضمانت مسترد ہونے کے بعد طلبہ رہنما عمر خالد کا پہلا ردعمل سامنے آیا۔ ان کی قریبی دوست بانوجیوتسنا لہڑی نے بتایا کہ عمر نے کہا، “میں ان دوسرے لوگوں کے لیے خوش ہوں جنہیں ضمانت ملی ہے، مجھے راحت ملی ہے۔” بانوجیوتسنا نے بتایا کہ جب انہوں نے کہا کہ وہ کل ملاقات کے لیے آئیں گی تو عمر نے جواب دیا، “ہاں، اب یہ زندگی ہے۔”

سپریم کورٹ کی جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے پیر کو عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یو اے پی اے کے تحت پہلی نظر میں ان کے خلاف مقدمہ بنتا ہے۔
تاہم عدالت نے دیگر پانچ ملزمان گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کی ضمانت منظور کر لی۔

فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس کیس میں پولیس کا الزام ہے کہ کئی طلبہ رہنماؤں نے مبینہ طور پر سازش رچی تھی جس سے فسادات بھڑکے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ مقدمے کی سماعت میں تاخیر ضمانت دینے کی بنیاد نہیں ہو سکتی اور قانونی تقاضوں کو کم نہیں کیا جا سکتا۔

عمر خالد اور شرجیل امام کے وکلاء نے دہائی دی کہ انہیں غیر منصفانہ طور پر مقدمے میں پھنسا یا گیا ہے اور ان کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں۔ مگر سپریم کورٹ کے مطابق اس مرحلے پر ضمانت دینے کے لیے مواد قابلِ اطمینان نہیں۔ امکان ہے کہ اب دفاعی فریق دوبارہ درخواست یا ریویو پٹیشن دائر کر سکتا ہے۔