عمرخالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستوں پر 5 جنوری کو سپریم کورٹ فیصلہ سنائے گی

نئی دہلی َ: سپریم کورٹ  جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق طلبہ عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستوں پر 5 جنوری کو اپنا فیصلہ سنائے گی۔  دونوں فروری 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے تحت ملزم ہیں۔

عدالت عظمیٰ کی ایک بنچ نے ملزمین اور استغاثہ کی جانب سے تفصیلی دلائل سننے کے بعد اپنے احکامات محفوظ کر لیے۔ بنچ نے واضح کیا کہ ضمانت سے متعلق حتمی فیصلہ مقررہ تاریخ کو سنایا جائے گا۔

عمر خالد اور شرجیل امام کو دہلی پولیس نے 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا، جس میں کم از کم  53 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ استغاثہ کا الزام ہے کہ یہ تشدد شہریت (ترمیمی) ایکٹ (CAA) کے خلاف مظاہروں کے دوران ایک منظم سازش کے تحت بھڑکایا گیا، جس میں ملزمان نے مبینہ طور پر کلیدی کردار ادا کیا۔

سماعت کے دوران ملزمان کے وکلا نے دلیل دی کہ الزامات بنیادی طور پر تقاریر، بیانات اور احتجاجی سرگرمیوں پر مبنی ہیں، اور ان پر UAPA جیسا سخت انسدادِ دہشت گردی قانون لاگو کرنا غیر ضروری ہے۔ وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ بغیر مقدمہ چلائے طویل عرصے تک حراست میں رکھنا آئین میں دیے گئے ذاتی آزادی کے حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب دہلی پولیس نے ضمانت کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش کے دوران جمع کیے گئے شواہد UAPA کے تحت ابتدائی طور پر قابلِ سماعت مقدمہ قائم کرتے ہیں۔ استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ الزامات کی سنگینی اور امنِ عامہ پر ممکنہ اثرات کے پیش نظر ملزمان کی مسلسل حراست ضروری ہے۔

واضح رہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام چار سال سے زیادہ عرصے سے عدالتی حراست میں ہیں، جبکہ مقدمے کی باقاعدہ سماعت ابھی شروع نہیں ہو سکی ہے۔ ان کی ضمانت کی درخواستیں نچلی عدالتوں کی جانب سے پہلے ہی مسترد کی جا چکی ہیں، جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔