امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ہندوستان نے روس سے تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی نہ کی تو امریکہ نئی دہلی پر ٹیرف میں مزید اضافہ کرسکتا ہے۔ یوکرین جنگ کے تناظر میں ماسکو کے ساتھ توانائی کے تعلقات پر ہندوستان پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ٹرمپ نے پیر کو واضح کیا کہ ان کی انتظامیہ ہندوستان سے روسی خام تیل کی خریداری روکنے کیلئے ٹھوس تعاون کی توقع رکھتی ہے۔
ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس اور ایئرفورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی تعریف تو کی، لیکن ساتھ ہی دو ٹوک پیغام بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”مودی بہت اچھے انسان ہیں۔ انہیں معلوم تھا کہ میں خوش نہیں ہوں۔ مجھے خوش رکھنا ضروری تھا۔ مجھے خوش کرنے کیلئے انہوں نے روس سے تیل کی خریداری کم کی“ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہماری توقعات پوری نہ ہوئیں تو ہندوستان پر ”بہت جلد مزید ٹیرف لگایا جاسکتا ہے۔“ واضح رہے کہ اس وقت کسی جامع تجارتی معاہدے کی عدم موجودگی میں، امریکہ نے ہندوستانی درآمدات پر پہلے ہی مجموعی طور پر ۵۰ فیصد ٹیرف عائد کر رکھا ہے۔
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے ٹرمپ کی ٹیرف حکمتِ عملی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ کار مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہندوستانی سفیر ونئے موہن کواترا نے ان سے ملاقات کرکے روسی تیل کی کم خریداری کا ذکر کرتے ہوئے ۲۵ فیصد ٹیرف ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم، نئی دہلی نے سرکاری طور پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ہندوستان میں ٹرمپ کے ان بیانات پر شدید سیاسی ردِعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس نے مودی حکومت پر امریکہ کے سامنے ”خاموشی سے سر تسلیم خم“ کرنے کا الزام لگایا۔ کانگریس نے سوال کیا کہ کیا ہندوستان کی خارجہ پالیسی اب واشنگٹن طے کر رہا ہے؟ عام آدمی پارٹی نے اسے ”قومی شرمندگی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کھلے عام نئی دہلی پر دباؤ ڈالنے کی باتیں کر رہا ہے۔
ٹیرف، ٹرمپ کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ ان ممالک پر دباؤ ڈال رہے ہیں جو روس سے رعایتی قیمت پر تیل خرید کر مبینہ طور پر یوکرین میں ماسکو کی جنگی مہم کو فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔ اگرچہ نومبر میں ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ ہندوستان پر ٹیرف کم کئے جا سکتے ہیں کیونکہ نئی دہلی نے روسی تیل کی درآمدات میں ”نمایاں کمی“ کی ہے، لیکن حالیہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ نومبر ۲۰۲۵ء میں ہندوستان کی روسی تیل کی خریداری ۶ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس میں روسی تیل کا حصہ ہندوستان کی مجموعی درآمدات کا ۳۵ فیصد رہا۔ ہندوستانی وزارتِ خارجہ نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تائید نہیں کی کہ مودی نے روسی تیل کی خریداری روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزارت کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق، ہندوستان کی توانائی کی پالیسی صارفین کے مفادات اور مستحکم فراہمی کو یقینی بنانے پر مبنی ہے۔
