ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جاری جنگ اب صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی عالمی سطح پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ اربوں ڈالر کے اخراجات کے درمیان وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایسے اشارے سامنے آئے ہیں جنہوں نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آیا اس جنگ کا مالی بوجھ عرب ممالک پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس بات کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں کہ امریکہ اکیلے اس جنگ کے اخراجات نہ اٹھائے۔
تفصیلات کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جاری جنگ کے اخراجات میں مدد حاصل کرنے میں "کافی دلچسپی” رکھتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیل دینے سے گریز کیا، تاہم ان کے بیان نے یہ واضح کر دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور مستقبل میں اس پر کھل کر بات کی جا سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق پینٹاگون حکام نے امریکی کانگریس کو بتایا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے ابتدائی چھ دنوں میں ہی 11.3 ارب ڈالر سے زائد خرچ ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف ابتدائی فوجی اخراجات کو ظاہر کرتے ہیں اور اس میں جنگی نقصانات یا ممکنہ معاوضے شامل نہیں ہیں۔ مزید برآں، ایک اندازے کے مطابق پہلے تین ہفتوں میں یہ لاگت 1.4 ارب سے 2.9 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو کہ پینٹاگون کے سابق بجٹ اہلکار ایلین میک کُسکر نے ظاہر کیا ہے۔
اسی دوران وائٹ ہاؤس نے کانگریس سے کم از کم 200 ارب ڈالر کے اضافی فوجی بجٹ کی بھی درخواست کی ہے۔ اس اضافی رقم کا مقصد نہ صرف ایران میں جاری فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنا ہے بلکہ پینٹاگون کے اسلحہ ذخائر کو بھی دوبارہ بھرنا ہے جو اس جنگ کے دوران تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو امریکہ ماضی میں بھی مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں سے مالی و عسکری تعاون کی توقع کرتا رہا ہے، خاص طور پر خلیجی ممالک سے۔ تاہم اس بار براہ راست جنگی اخراجات کی تقسیم کی بات سامنے آنے سے خطے میں سیاسی و سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عرب ممالک کے لیے ایک نیا سفارتی امتحان کھڑا ہو سکتا ہے۔
اس ممکنہ فیصلے کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں، کیونکہ اگر عرب ممالک پر مالی دباؤ ڈالا گیا تو تیل کی قیمتوں، علاقائی اتحادوں اور بین الاقوامی تعلقات میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ عرب ممالک اس تجویز کو کس حد تک قبول کریں گے، لیکن یہ معاملہ آنے والے دنوں میں عالمی سیاست کا اہم موضوع بننے والا ہے۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معیشت کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہے، جہاں طاقتور ممالک مالی بوجھ دوسروں پر منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
