امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں امریکی صدر Donald Trump آج قوم سے ایک اہم خطاب کرنے والے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ خطاب بدھ کی رات 9 بجے ہوگا، جو ہندوستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح 6:30 بجے نشر کیا جائے گا۔ اس خطاب میں توقع کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے مستقبل کے حوالے سے کوئی بڑا اعلان کریں گے، جس سے آئندہ چند گھنٹوں میں صورتحال واضح ہو سکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں عندیہ دیا تھا کہ امریکی افواج آئندہ دو سے تین ہفتوں کے اندر ایران سے نکل سکتی ہیں، جس سے جنگ کے خاتمے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امریکہ اپنے بنیادی ہدف، یعنی ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکی انتظامیہ ایران کے اندر محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہی ہے، جس کا مقصد افزودہ یورینیم کو محفوظ بنانا ہو سکتا ہے۔ اس ممکنہ آپریشن میں خصوصی کمانڈو دستے شامل کیے جا سکتے ہیں۔
یہ تنازع، جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوا، اب دوسرے مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس دوران Benjamin Netanyahu نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل تہران کے خلاف اپنی فوجی مہم کو مزید تیز کرے گا، جس سے دونوں اتحادیوں کے درمیان حکمت عملی میں اختلافات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ اگر امریکہ واقعی اپنی فوجی مہم محدود کرتا ہے تو اسرائیل خطے میں تنہا رہ سکتا ہے، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
پس منظر میں دیکھا جائے تو امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کے خلاف شدید عوامی ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں، جہاں ’End the War‘ اور ’No Kings‘ جیسے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ ادھر عالمی سطح پر بھی اس جنگ کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے کئی ممالک کو متاثر کیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس تنازع میں اب تک تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ امریکی فوج کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس میں 13 اہلکار ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہیں، جس کے باعث مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
موجودہ حالات میں صدر ٹرمپ کا آج کا خطاب نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ یہی خطاب یہ طے کرے گا کہ امریکہ جنگ سے پیچھے ہٹے گا یا اسے ایک نئے اور زیادہ خطرناک رخ پر لے جائے گا۔
