مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کو بڑا جھٹکا: اقلیتی سیل کے ریاستی سکریٹری اجمل صدیقی کا استعفیٰ، ابھیشیک بنرجی پر ‘آمرانہ رویے’ کا الزام

مغربی بنگال کی برسراقتدار جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اندرونی تنظیمی بحران میں اس وقت مزید شدت پیدا ہو گئی جب پارٹی کے ریاستی اقلیتی سیل کے سکریٹری اجمل صدیقی نے اپنے عہدے اور پارٹی سے استعفیٰ دینے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ ہفتہ چھ جون کو سامنے آنے والے اس فیصلے نے ریاست کے سیاسی حلقوں بالخصوص مسلم ووٹرز اور اقلیتی رہنماؤں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اجمل صدیقی نے پارٹی قیادت کو نشانہ بناتے ہوئے ترنمول کانگریس کے سینیئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر انتہائی سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور ان کے طرز عمل کو پارٹی کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

دستیاب رپورٹ کے مطابق اجمل صدیقی نے حج کی سعادت حاصل کرنے کے فوراً بعد وطن واپسی پر یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پارٹی کے غیر جمہوری اندرونی طریقہ کار اور قیادت کے منفی اثرات کی وجہ سے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدس سفر سے واپسی کے بعد انہوں نے ضمیر کی آواز پر یہ محسوس کیا کہ ترنمول کانگریس میں رہنا اب باعزت شہریوں کے لیے ناممکن ہو چکا ہے کیونکہ یہ جماعت اب بدنامی کا باعث بن چکی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی کے بیشتر ارکان غیر مناسب اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہیں جس کی وجہ سے آئے دن نئے اسکینڈلز سامنے آ رہے ہیں اور مستقبل میں مزید بدعنوانیاں بے نقاب ہونے کا خدشہ ہے۔

اقلیتی سیل کے مستعفی سکریٹری نے پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ترنمول کانگریس اب صرف نام کی پارٹی رہ گئی ہے جہاں رہ کر عوام کے لیے کوئی بامعنی یا مخلصانہ کام کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت کے اندر میرٹ اور کارکردگی کے بجائے صرف چاپلوسی کرنے والے افراد کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور مخلص کارکنان کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ اجمل صدیقی نے ممتا بنرجی کے بھتیجے اور لوک سبھا ایم پی ابھیشیک بنرجی کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج پارٹی اگر بکھراؤ کا شکار ہے تو اس کی واحد وجہ ابھیشیک بنرجی کا ‘آمرانہ رویہ’ اور جبر ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ بارہ تیرہ سالوں کے دوران مخلص رہنماؤں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرائے گئے، مالی مطالبات کیے گئے اور انہیں مسلسل ہراساں کیا گیا۔

مغربی بنگال کی سیاست میں اقلیتی برادری کو ایک فیصلہ کن قوت مانا جاتا ہے اور ٹی ایم سی کی پے در پے انتخابی کامیابیوں میں مسلم کمیونٹی کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ ایسے میں اقلیتی سیل کے ایک اہم عہدیدار کا پارٹی کے کرپشن، اسکینڈلز اور مسلم قیادت کو ہراساں کیے جانے کا الزام لگا کر الگ ہونا پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زمینی سطح پر کام کرنے والے مسلم رہنماؤں کی یہ ناراضگی ترنمول کانگریس کے روایتی ووٹ بینک میں دراڑ پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ برادری کے اندر یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ انہیں صرف انتخابی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اصل تنظیمی طاقت چند مخصوص ہاتھوں میں مرکوز ہے۔

جب اجمل صدیقی سے ان کے مستقبل کے سیاسی منصوبوں اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت کے امکانات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فی الحال کسی دوسری جماعت میں جانے کی تصدیق نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح صرف اور صرف مغربی بنگال کی حقیقی ترقی اور خوشحالی ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ریاست میں نئی صنعتیں قائم ہوں، غریبوں کو روزگار کے مواقع ملیں اور وہ اسی مقصد کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ ترنمول کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے ابھی تک اجمل صدیقی کے استعفے اور ابھیشیک بنرجی پر لگائے گئے الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل یا صفائی پیش نہیں کی ہے۔

شیئر کریں۔