ٹائم میگزین کی۲۰۲۶ء کی۱۰۰؍ بااثر شخصیات کی فہرست نے دنیا بھر میں غم و غصہ برپا کر دیا ہے، جس میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو ، جو غزہ میں نسل کشی کے الزام میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلوب ہے، کو ارمریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ سرفہرست لیڈروںمیں شامل کیا گیا ہے۔ میگزین نے نیتن یاہو کی سیاسی واپسی اور فوجی کارروائیوں کو سراہا ہے، جس پر انسانی حقوق کے محافظوں نے شدید تنقید کی ہے۔ ٹائم نے نیتن یاہو کی ’واپسی‘کی تعریف کرتے ہوئے یاد دلایا کہ نیتن یاہو کو۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کو حماس کے حملےکے دوران اسرائیل کی تباہ کن ناکامی کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، اور لکھا، ’’اس کے بعد سے اس کی سیاسی واپسی ممکنہ طور پر ٹرمپ سے بھی آگے نکل گئی ہے۔‘‘
بعد ازاں میگزین نے حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی، ایران کے ایٹمی پروگرام پر مشترکہ امریکی اسرائیلی حملوں، اور غزہ میں یرغمالیوں کی بازیابی کو بھی سراہا۔جبکہ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب فلسطینی شہریوں (بشمول خواتین اور بچوں) کی دسیوں ہزاروں اموات ہو چکی ہیں۔تاہم ناقدین نے اس اشاعت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسے لیڈرکی تعریف کر رہی ہے جس پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات ہیں، اور انہوں نے غزہ میں جاری قتل عام، نیز ایران، لبنان اور شام پر اسرائیلی حملوں کی طرف اشارہ کیا۔
اس کے علاوہ ٹرمپ، جنہوں نے وائٹ ہاؤس میں دوبارہ آنے سے پہلے جنگیں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، نے ایران پر حملے کیے اور وینزویلا کے صدر کے اغوا کا حکم دیا۔ تاہم، ٹائم نے ٹرمپ کی ’’ٹیکس اصلاحات‘‘ پر توجہ مرکوز کی۔ اس فہرست میں پوپ لیو، میکسیکو کی کلاڈیا شینبام، کینیڈا کے مارک کارنی اور دیگر لیڈران شامل ہیں۔




