ناکھون رتچاسیما (تھائی لینڈ)، 14 جنوری 2026:شمال مشرقی تھائی لینڈ میں بدھ کے روز ایک ہولناک حادثے میں زیر تعمیر ریلوے پل کی کرین چلتی ہوئی مسافر ٹرین پر گر گئی، جس کے نتیجے میں ٹرین کی کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ اس حادثے میں کم از کم 30 افراد ہلاک جبکہ متعدد مسافر زخمی ہو گئے۔
یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ٹرین بنکاک سے اوبن رتچاتھانی جا رہی تھی۔ صوبہ ناکھون رتچاسیما کے گورنر انوپھونگ سوکسومنت کے مطابق ٹرین میں 171 مسافر سوار تھے، جن میں سے چار تاحال لاپتہ ہیں۔ امدادی ٹیمیں کئی گھنٹوں تک ملبے میں دبے مسافروں کی تلاش میں مصروف رہیں۔
حکام کے مطابق حادثے کی وجہ ریلوے کے ایک اونچے حصے کی تعمیر کے دوران استعمال ہونے والی کرین کا اچانک گر جانا تھا۔ تھائی میڈیا کی جاری کردہ تصاویر میں جائے حادثہ پر شدید دھواں، تباہ شدہ بوگیاں اور بکھرا ہوا تعمیراتی سامان دیکھا جا سکتا ہے۔ امدادی کارکنوں نے الٹی ہوئی بوگیوں کو کاٹ کر زخمیوں کو باہر نکالا۔
وزیر ٹرانسپورٹ پھفت رتچاکیت پرکارن نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ تھائی لینڈ اسٹیٹ ریلوے کے قائم مقام گورنر آنان فونیمڈاینگ نے بتایا کہ منصوبے کا مرکزی ٹھیکیدار اطالوی-تھائی ڈیولپمنٹ ہے، جبکہ ڈیزائن اور نگرانی ایک چینی کمپنی کے ذمے ہے۔ ابتدائی طور پر ٹرین کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 100 ملین بھات سے زائد لگایا گیا ہے۔
یہ حادثہ تھائی–چینی ہائی اسپیڈ ریلوے منصوبے کے ایک حصے پر پیش آیا، جو بنکاک کو لاؤس کی سرحد سے ملاتا ہے اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 520 بلین بھات سے زائد بتائی جاتی ہے۔
متاثرہ تعمیراتی کمپنی نے ایک بیان میں ہلاک شدگان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے معاوضہ اور زخمیوں کے علاج کے اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اس حادثے نے تھائی لینڈ میں تعمیراتی معیار اور ٹھیکیداروں کی جوابدہی پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
چینی وزارت خارجہ نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں اور صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
