تلنگانہ کے ضلع نظام آباد کے تحت آنے والے قصبے آرمور میں ایک نجی اسکول کے پرنسپل پر وحشیانہ حملہ کرنے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مقامی رہنما کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ نظام آباد پولیس نے پیر کے روز کارروائی کرتے ہوئے آرمور کے بی جے پی ٹاؤن صدر منڈولا بالو کو انکاپور کے ایک گیسٹ ہاؤس سے حراست میں لیا۔ یہ گیسٹ ہاؤس آرمور کے مقامی بی جے پی ایم ایل اے پیڈی راکیش ریڈی سے وابستہ بتایا جاتا ہے۔ پولیس نے یہ کارروائی اسکول انتظامیہ کی جانب سے درج کرائی گئی باقاعدہ شکایت کے بعد انجام دی ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ پورا تنازع آرمور میں واقع ‘بھارت چندرا ہائی اسکول’ میں اردو زبان کی تدریس کو لے کر شروع ہوا۔ بی جے پی رہنماؤں اور چند ہندوتوا تنظیموں نے الزام لگایا تھا کہ اسکول میں ہندو طلبہ کو مبینہ طور پر اردو پڑھائی جا رہی ہے اور نماز کی مشق کرائی جا رہی ہے۔ اسی تنازع کے دوران بی جے پی ٹاؤن صدر منڈولا بالو نے اسکول کے کورسپانڈنٹ ملیا اور پرنسپل عامر خان کے ساتھ شدید گالی گلوچ کی اور پرنسپل عامر خان پر حملہ کر دیا۔ اسکول کورسپانڈنٹ کی شکایت پر پولیس نے بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی مختلف سخت دفعات بشمول 329(4)، 115(2)، 118(1) اور 324(4) کے تحت مقدمہ درج کر کے ملزم کو دھر دبوچا۔
اس واقعے کے بعد علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کیے۔ اسی دوران حیدرآباد سے آرمور میں احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے لیے آنے والے بی جے پی ایم ایل اے پیڈی راکیش ریڈی کو پولیس نے بھیکنور کے مقام پر احتیاطی طور پر حراست میں لے لیا۔ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ایم ایل اے کو کاماریڈی کے کیمپ آفس منتقل کر دیا گیا ہے۔ بی جے پی کارکنوں نے اسکول انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے میونسپل ایجوکیشن آفیسر کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا ہے جس میں اسکول کی سرگرمیوں کی انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سماجی کارکنوں اور اقلیتی رہنماؤں نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اردو ہندوستان کی ایک سرکاری اور آئینی زبان ہے، اور کسی بھی تعلیمی ادارے میں زبان سکھانے کو مذہبی رنگ دے کر ایک مسلم اساتذہ یا پرنسپل کو تشدد کا نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قانون کی بالادستی کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو سیاست اور نفرت انگیز نظریات سے دور رکھا جائے تاکہ طلبہ کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔
نظام آباد پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال فی الحال قابو میں ہے اور اسکول کے ارد گرد اضافی فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ پولیس معاملے کی ہر پہلو سے تفتیش کر رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی عنصر قانون کو ہاتھ میں نہ لے سکے۔ پرنسپل پر حملے کے اس واقعے نے ریاست میں لسانی اور مذہبی رواداری پر کام کرنے والی تنظیموں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔




