نام کتاب : رہ نوردِ شوق
مصنف : محمدسمعان خلیفہ ندوی حفظہ اللّٰہ
ناشر : ادارہ ادب اطفال بھٹکل
مبصر : مقصوداحمدضیائی
خادم التدریس جامعہ ضیاءالعلوم پونچھ
تاریخِ اسلام کے ادوار مختلفہ میں علماء و دانشوران اور سیاحین کے اسفار جوحصول علم وحکمت اور ازدیاد تجارت و بصیرت کی غرض سے ہوئے تھے۔ صفحات تاریخ اور مختلف سفرناموں کی شکل میں منصہ شہود پر جلوہ گر ہوکر باعث التفات انظار و ابصار ہوئے بلکہ ہر قاری کے لیے گھر بیٹھے۔ بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے ہوتا ہےشب وروزتماشہ میرےآگےکا منظر پیش کرتا ہے۔ "رہ نوردِشوق”مداحِ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم مشرفِ کہکشاں ؛ ادارہ ادبِ اطفال ؛ مدیر اعلٰی ماہنامہ "پھول” اور استاذ جامعہ اسلامیہ بھٹکل حضرت مولانا محمد سمعان خلیفہ ندوی صاحب کے سفرناموں کا مجموعہ ہے۔ جو شعبان المعظم کے اواخر میں حضرت مولانا الطاف حسین صاحب مدرس جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا مہاراشٹر کی وساطت سے موصول ہوا۔ ندوی صاحب کو ہم نے ان کے قلم سے ہی جانا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ سال گزشتہ مولانا الطاف صاحب کی تصنیف لطیف "کلام اقبال سے ایک انتخاب” منصہ شہود پر آئی تو اس میں” اقبال __ روحانیت کے سفیر” کے عنوان سے ندوی صاحب کی دل کو چھولینے والی تحریر پڑھنے کی سعادت ملی۔ جس نے آپ کے قلم کا گرویدہ بنا لیا اور پھر آپ کی تصنیفات کی جستجو ہونے لگی۔ سفرنامہ "رہ نوردشوق” جس وقت موصول ہوا۔ اس وقت ماہ صیام کی آمد آمد اور مہینہ بھر کا سفر درپیش ہونے کی وجہ سے یکسوئی کے ساتھ مطالعہ کے لیے شوال المکرم کا پہلا عشرہ ہم نے اپنی تدبیر میں طے کرلیا۔ قدرت کی تقدیر ہمنوا رہی تو عید الفطر کے دوسرے روز ہی کتاب کے مطالعہ کا آغاز ہوگیا۔ دورانِ مطالعہ سیاحتی معلومات و سفری تاثرات پڑھتے وقت خیال بے ساختہ ابنِ بطوطہ و ابن انشاء کی طرف چلا جاتا۔ اللّٰہ تعالٰی نے ندوی صاحب کو انشاء کا کیا ہی پاکیزہ ذوق بخشا ہے۔ ماشاءاللّٰہ! سچ یہ ہے کہ آپ کا قلم گوہر بار لکھتا ہی نہیں بلکہ صفحہ قرطاس پر علم و ادب اور معرفت کے موتی رولتا ہے۔ آپ کی بولتی تحریریں علم و ادب کے بازار میں قاری سے ھل من مزید و ھل من جدید کا نعرہ لگواتی ہیں۔ جاننا چاہیے کہ سفرنامہ اردو ادب کی ایک اہم غیر افسانوی صنف ہے، جو مصنف کے ذاتی مشاہدات، تجربات، اور جذبات کے ذریعہ مختلف ممالک کی جغرافیائی، ثقافتی، تاریخی اور سماجی معلومات قارئین تک پہنچاتے ہیں۔ یہ تحریریں نہ صرف معلومات کا ذریعہ ہوتی ہیں بلکہ قارئین کے علمی، ادبی اور سیاحتی ذوق میں اضافہ کرنے کے ساتھ تاریخی شعور کو بھی بیدار کرتی ہیں۔ سفرنامہ کسی نئے ملک یا خطے کی تہذیب، رسم و رواج، سیاست، اور معیشت سے واقفیت فراہم کرتا ہے۔ یہ جغرافیائی اور تاریخی معلومات کے حصول کا بھی ایک مستند ذریعہ ہے۔ ایک سفرنامہ نگار مختلف اقوام کے لوگوں سے ملاقات اور ان کے رہن سہن کا مشاہدہ کر کے، ان کی ثقافت اور طرزِ زندگی کو قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے۔ سفرنامہ صرف سفر کی روداد نہیں بلکہ ایک ادبی فن پارہ ہے جو منظر نگاری، جزئیات نگاری اور ذاتی تاثرات کے حسین امتزاج سے بنتا ہے۔ یہ قدیم اور جدید مقامات کی حالت، اہم مقامات اور تاریخی واقعات کو ریکارڈ کرتے ہیں، جس سے مستقبل میں تحقیق کرنے والوں کو مدد ملتی ہے۔عمدہ سفرنامہ نگار جیسے سیاح زمانہ ابن بطوطہ اور ابن انشاء نے اپنے شگفتہ انداز، مزاح اور لطیف طنز کے ذریعہ قاری کو اپنے ساتھ سفر پر لے جاتے ہیں، جس سے سفرنامہ دلچسپ اور تفریحی بن جاتا ہے۔ یہ قاری کی آنکھوں کے راستے سے دل میں اتر کر، مناظرِ فطرت اور انسانی زندگی کے گہرے اثرات کو اجاگر کرتے ہیں۔ غرضیکہ سفرنامہ نگاری ایک ایسا "جہانِ دیدہ” ادب ہے جو قاری کو گھر بیٹھے دنیا کی سیر کراتا ہے اور مختلف معاشروں کی حقیقی تصویر پیش کرتا ہے۔ مولانا محمد سمعان خلیفہ ندوی صاحبِ بصیرت قلم کار ہیں موصوف نے دوران سفر اپنی مومنانہ بصیرت و قاد طبیعت اور متفکر قلب و دماغ سے اپنی وجدانیات کے اعتبار نتائج و عبر کو اخذ کیا اور اپنے خداد علمی و ادبی انداز میں پیش قارئین کیا ہے۔توآئیے! زیرنظر سفرنامہ کے مندرجات پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں۔ پیش گفتار میں سفرنامہ کا خوبصورت تعارف کرایاگیاہے۔ مقدمہ حضرت مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی مدظلہ ناظم ندوة العلماء لکھنو کے قلم سے ہے۔ اس کےبعد” زادہ بحرعرب یانوجوان ابن بطوطہ ” کے عنوان سےجناب محمد عمیرالصدیق ندوی (دارالمصنفین،شبلی اکیڈمی,اعظم گڑھ) کا مضمون ہے۔جوعلمی بھی ہے اورمعلوماتی بھی۔ اور پھر "تا بہ خاک افریقہ” کے عنوان سے باقاعدگی سے داستانِ سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ اس عنوان کے ٣٢ ذیلی عنوانات ہیں۔ دوسرا اہم عنوان "چائنا میرے آگے” ہے۔ جس کے آغاز میں عرض حال اور مقدمہ بھی ہے اس کے ٤٣ ذیلی عنوانات ہیں۔ سفرنامے اور سوانحی طرز کی کتابیں پڑھنے کا مجھے بچپن سے شوق رہا ہے۔ لیکن اس وقت تک کی میری بیتی زندگی میں ملک چین کا کوئی بھی قابل ذکر سفرنامہ نگاہوں سے نہیں گزرا۔ چین کے مسلمانوں کے حوالے سے اس وقت تک منتشر معلومات کی وجہ سے متذبذب کیفیت سےمیں دوچارتھا۔ زیرنظر سفرنامہ کے مطالعہ سےدل کوسکون ملا۔ اور دل سے دعا نکلی کہ سطحِ ارض پرجہاں جہاں بھی اہلِ ایمان بستےہیں۔ مالک کائنات سب کے ایمان اور جان مال عزت آبرو کی حفاظت فرمائے۔ یوں تو یہ سفرنامہ سارا کا سارا دلچسپ ہے تاہم شانگھائی کی شام کا تذکرہ جس ولولے سےکیا ہے اورعلم و ادب کے جو جواہر لٹائے ہیں وہ توپڑھنے اور دادتحسین کے لائق ہے۔آپ بھی چند سطریں پڑھیں۔ اور صاحب کتاب کو اپنی دعاؤں سےسرفرازکریں۔ "مشرقی چین کے سرے پر واقع کچھ جنوب کی طرف مائل شانگھائی کا شہر دنیا کے خوب صورت ترین اور دوسری طرف جدید ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہاں کے درودیوار ؛ یہاں کے گنبد ومینار دل فریب بھی ہیں۔ جانواز بھی؛فرحت بخش بھی ہیں۔ جاذب نظر بھی۔ ہرچٹخنے والا غنچہ حسین؛ہرکھلنے والی کلی قدرتی حسن سے رنگین؛ اس کی صبحِ جاں فزا ؛ اس کی شام دل ربا؛ ہماری سماعتوں سے صبحِ بنارس اور شام اودھ کے تذکرے ٹکرائے ہیں اورچشم تصور نے اس کے پرلطف نظاروں کی سیرکی ہے۔اورکچھ افسوس بھی رہاہے کہ اس کا دیدار نہ کرپائے اور آج گردش لیل و نہار نے اسے قصہ پارینا بنا دیا۔ مگر شانگھائی کی جو شام دیکھی توپھر شہبازِ خیال نے اس کی فضاؤں میں پرواز کرنا شروع کیا اور اب احساس نے شام اودھ کے تذکرے بھلا دیے۔ مگررکیے! یہ تو دنیا ہے یہ اتنی حسین اور پرلطف ہے۔ اورجب یہ فانی بھی؛ پھراس سے جی لگاناکیسا۔ توپھرمیرے رب کی بنائی ہوئی ابدی جنت اور سرمدی نعمت کہ حُسن کا کیا عالم ہوگا۔ سچے پیغمبر ﷺ نے تو صاف بتا دیا۔ (حدیث قدسی) جس کا مفہوم ہے کہ "میں نے اپنے وفادار اور نیک بندوں کے لیے ایسی جنتیں اور نعمتیں تیار کررکھی ہیں۔ کہ نہ کسی آنکھ نے ان کا نظارہ کیا ہوگا۔ نہ کسی کان سے ان کا تذکرہ گزرا ہوگا۔ اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی آیا ہوگا۔” رم جھم رم جھم بارش ؛ مستانہ ہواؤں کے جھونکے ؛ لالہ و یاسمین کا رقص ؛ سرووشمشاد اپنے جوبن پر؛بادنسیم مشکبار؛جیسے ہواکے رخ پر کھلی زلف یار؛فصل بہارکی لطافتیں؛ گوہرآب دارکی نزاکتیں؛شبنمی موتیوں کی پھواریں؛رنگ و نکہت کی برساتیں۔ فضائیں معطر؛ہوائیں معنبراورنظروں کےسامنے دودھیارروشنی میں نہاتا ہوا اورینٹل پرل ٹاور؛ایسے میں وجدان جھوم کر خالق کی تسبیح پر مجبور؛زبان پرحمد کے زمزمے آئیں۔ بربط دل پراحساس کے سرپرثنائے خالق کے نغمے لہرائیں؛کائنات حسن کے مصور نے آدم کے بیٹے کو کیساخوبصورت دماغ عطا کیا۔جس نے اپنے وجود میں قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ اعلٰی ترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر دنیا کو حسن اور رعنائی سے بھرپور شاہکار دیئے انہیں میں یہ ایک پرل ٹاور ہے۔,, اس کے بعد سفرنامہ نیپال ہے۔ جس کے دو ذیلی عنوان ہیں۔ اورپھرسفرنامہ گجرات،مشاہدات و تاثرات سے معنون ہے جس کے نو ذیلی عنوانات ہیں۔ جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل میں حاضری اور جامعہ اصلاح البنات سملک جو کہ خواتین کی ایک مثالی درسگاہ ہے۔ کہ نظم و انتظام کا خوبصورت تذکرہ کیا ہے۔ حسن انتظام کی اس حسین شاہکار اور بہترین سلیقے کی آئینہ دار اسلامی فکر کی غماز اوربچیوں کی دینی تربیت کی عکاس۔ اپنی مثال آپ مرکزی دانش گاہ کا والہانہ تذکرہ بھی آگیاہے۔جو بنات کا ادارے چلانے والوں کے لیے بہترین گائڈ ہے۔ الحاصل! "رہ نوردشوق” محض ایک سفر کی داستان نہیں بلکہ ایک فکری دعوت ہے۔ جس میں چین ؛ نیپال اور گجرات کے اسفار کی داستان جامع اور روح پرور روداد ہے۔ بطور خاص چین نیپال اور افریقہ کے دینی اور سماجی حالات کی عکاسی ہے۔ دعوتی فضا ؛ تعلیمی ضرورتوں اور امت مسلمہ کے فکری چیلنجز پر گہرے اور بصیرت افروز تبصرے کیے ہیں۔ قیمتی تاثرات بھی ہیں اور معلومات بھی خوب ہیں۔ اسلوب تحریر شورش کاشمیری کی یاد دلاتا ہے۔ دوران مطالعہ قاری جھوم جھوم جاتا ہے۔ تمام مشمولات پرایک تبصرے میں روشنی ڈالنا مشکل ہے۔ کمپیوزنگ ؛ طباعت اورسرِورق خوبصورت ؛ دیدہ زیب اور فرحت نظرہے۔ صفحات ٣٨٤ اور قیمت ٤٠٠ روپے اور ملنے کا پتہ "ادارہ ادب اطفال” بھٹکل درج ہے۔ علم دوست ہاتھوں تک اس کی رسائی ہونی چاہیے۔
