نئی دہلی: سپریم کورٹ کل 5 جنوری کو 2020 کے دہلی فسادات کی مبینہ سازش میں گرفتار عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر ملزمین کی ضمانت کی درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنائے گی۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی دو رکنی بنچ اس اہم معاملے پر حکم صادر کرے گی۔
گزشتہ سال 10 دسمبر کو عدالت نے دہلی پولیس کی نمائندگی کرنے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا، ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو اور ملزمین کے وکلا کپل سبل، ابھیشیک منو سنگھوی، سلمان خورشید، سدھارتھ دوے و دیگر کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔
عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر پر الزام ہے کہ وہ 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کے مرکزی منصوبہ ساز تھے۔ پولیس نے ان پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ یعنی یو اے پی اے اور تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
فروری 2020 میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے خلاف احتجاج کے دوران شمال مشرقی دہلی میں تشدد بھڑک اٹھا تھا، جس کے نتیجے میں 53 افراد کی جانیں گئیں اور 700 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔
گزشتہ سال 2 ستمبر کو دہلی ہائی کورٹ نے ملزمین کو ضمانت دینے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اب پورے ملک کی نگاہیں سپریم کورٹ کے فیصلے پر مرکوز ہیں جو کل متوقع ہے۔
