ہندوستان میں نفرت انگیز تقاریر یعنی ہیٹ اسپیچ کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے مطالبات کے درمیان سپریم کورٹ نے ایک انتہائی اہم اور دور رس فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی عمل کو جرم قرار دینا، اس کی تعریف متعین کرنا اور اس کے لیے سزا کا انتخاب کرنا خالصتاً مقننہ یعنی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کا دائرہ اختیار ہے۔ جسٹس صاحبان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ عدلیہ کا بنیادی کام قانون کی تشریح کرنا ہے نہ کہ نیا قانون وضع کرنا۔ عدالت نے آئین میں درج اختیارات کی تقسیم کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ان تمام درخواستوں اور دلائل کو غیر ضروری قرار دے کر مسترد کر دیا جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملک میں نفرت انگیز تقاریر سے نمٹنے کے لیے موثر قوانین موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ موجودہ قانونی ڈھانچے میں کوئی ایسا خلا یا کمی نہیں ہے جسے پُر کرنے کے لیے عدلیہ کو مداخلت کرنی پڑے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں رائج قوانین نفرت انگیز بیانات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں، اصل ضرورت ان قوانین پر انتظامیہ اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے دیانتداری سے عمل درآمد کرنے کی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اگر کوئی نیا قانون یا پالیسی لانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس کا فیصلہ عوام کے منتخب نمائندے ہی کریں گے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وہ مقننہ کو کسی خاص قانون کو بنانے کے لیے مجبور نہیں کر سکتی اور نہ ہی پالیسی سازی کے معاملات میں مداخلت کرنا عدالت کا کام ہے۔ فیصلے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ ہندوستانی جمہوریت کے تینوں ستون یعنی عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ اپنی اپنی حدود میں خود مختار ہیں اور ایک دوسرے کے کام میں مداخلت آئینی توازن کو بگاڑ سکتی ہے۔
قانونی ماہرین سپریم کورٹ کے اس موقف کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے یہ پیغام گیا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کو روکنے کی براہ راست ذمہ داری اب انتظامیہ کے کندھوں پر ہے۔ عدالت نے بالواسطہ طور پر یہ اشارہ دیا ہے کہ پولیس اور دیگر ادارے نئے قوانین کا انتظار کرنے کے بجائے بھارتیہ نیائے سہنتا (سابقہ آئی پی سی) کی موجودہ دفعات کے تحت سختی سے کارروائی کریں۔ اس فیصلے کے بعد اب گیند مرکز اور ریاستی حکومتوں کے کورٹ میں ہے کہ وہ موجودہ قوانین کے ذریعے معاشرے میں نفرت پھیلانے والے عناصر پر کس طرح لگام کستے ہیں۔



