پیغمبر اسلامﷺ کے خلاف توہین آمیز ویڈیو پر پابندی کی درخواست سپریم کورٹ میں خارج، عدالت کا متبادل قانونی راستے اپنانے کا مشورہ

نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے بدھ کے روز اس مفادِ عامہ کی درخواست پر سماعت کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے جس میں سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے مقدس خاندان کے خلاف ایک یوٹیوبر اور اثر انگیز شخص (انفلوئنسر) کی جانب سے کیے گئے مبینہ طور پر انتہائی توہین آمیز تبصروں کی لائیو اسٹریمنگ اور سرکیولیشن پر فوری پابندی عائد کرنے کی ہدایت مانگی گئی تھی۔ عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے کے بعد درخواست گزار کے وکیل نے اپنی عرضی واپس لے لی، جبکہ عدالت نے واضح کیا کہ اس طرح کے معاملات کے لیے دیگر قانونی راستے اور قوانین پہلے سے موجود ہیں۔

یہ حساس معاملہ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک ارادھے پر مشتمل دو رکنی بنچ کے سامنے سماعت کے لیے آیا۔ درخواست گزار ایم ڈی انس چودھری کے وکیل نے عدالت کے سامنے مضبوطی سے مؤقف اختیار کیا کہ یہ پورا تنازعہ جون کے مہینے میں ایک پوڈ کاسٹ کے دوران کیے گئے توہین آمیز تبصروں کے بعد پیدا ہوا، جس کی وجہ سے مسلم برادری کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے اور ملک بھر کے مسلمانوں میں گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ وکیل نے ملک میں سوشل میڈیا پر سنسر شپ کی عدم موجودگی کو "آئینی خاموشی” کی حالت قرار دیتے ہوئے استدلال کیا کہ موجودہ دور میں لوگ دھڑادھڑ پوڈ کاسٹ اور ریلز بنا کر مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اس لیے اعلیٰ عدالت کو اس مرحلے پر مداخلت کرنی چاہیے۔

مسلم برادری اور انسانی حقوق کے نقطہ نظر سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر مذہبی شخصیات بالخصوص پیغمبر اسلامﷺ کی شان میں گستاخی اور نفرت انگیز مواد (Hate Speech) کا پھیلنا ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے بیانات نہ صرف اقلیتوں کے تحفظ اور امن و امان کے لیے خطرہ پیدا کرتے ہیں بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی مانیٹرنگ کے ناقص نظام کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔ درخواست گزار کا بنیادی مقصد ایسے زہریلے مواد کو مزید وائرل ہونے سے روکنا تھا تاکہ سماجی انتشار کو ٹالا جا سکے۔

سماعت کے دوران جسٹس پی ایس نرسمہا نے زبانی مشاہدہ کیا کہ یہ معاملہ آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت دائرہ اختیار کے استعمال کی ضمانت دینے والا نہیں ہے، کیونکہ آرٹیکل 32 کے تحت دائر درخواستیں دوسرے آئینی مقاصد کے لیے ہوتی ہیں۔ بنچ نے مزید کہا کہ اس معاملے میں قانون کے تحت جو بھی کارروائی جائز ہو، اسے کیا جانا چاہیے۔ جب بنچ کو مطلع کیا گیا کہ متعلقہ گستاخ شخص کے خلاف پہلے ہی متعدد ایف آئی آر (FIR) درج کی جا چکی ہیں، تو جسٹس نرسمہا نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس پر وکیل نے وضاحت کی کہ وہ نئی ایف آئی آر کی مانگ نہیں کر رہے، بلکہ صرف سوشل میڈیا پر اس توہین آمیز مواد پر روک لگانا چاہتے ہیں۔

عدالت کے دوسرے جج جسٹس آلوک ارادھے نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا وہ انفارمیشن ٹکنالوجی رولز 2009 (IT Rules) سے واقف ہیں، جس کے تحت حکومت کو کسی بھی قابلِ اعتراض یا مذہبی جذبات کو بھڑکانے والے ڈیجیٹل مواد کو بلاک کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ جب عدالت عظمیٰ نے درخواست پر غور کرنے سے مکمل معذرت کر لی، تو وکیل نے قانونی متبادلات کا رخ کرنے کے لیے عرضی واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ معلوم ہو کہ جون 2026 میں ایک انفلوئنسر نے پوڈ کاسٹ کے دوران پیغمبر اسلامﷺ کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے، جس کا کلپ وائرل ہونے کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں مسلم تنظیموں اور شہریوں کی جانب سے سخت احتجاج اور قانونی کارروائی کی مانگ کی گئی تھی۔

شیئر کریں۔