سپریم کورٹ نے نومبر 2024 کے اپنے تاریخی فیصلے میں طے کردہ ‘بلڈوزر گائیڈ لائنز’ کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق توہینِ عدالت کی درخواستوں پر براہِ راست سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے واضح کیا کہ عدالتِ عظمیٰ ہر انفرادی معاملے کے حقائق اور دعووں کی جانچ نہیں کر سکتی، لہٰذا متاثرین کو اپنے متعلقہ مسائل اور شکایات لے کر متعلقہ ریاستوں کی ہائی کورٹس سے رجوع کرنا چاہیے۔ عدالت نے ان تمام توہینِ عدالت کی درخواستوں کو متعلقہ ہائی کورٹس کو منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ نومبر 2024 میں سپریم کورٹ نے ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے جرم کے ملزم یا مجرم کے مکانات اور جائیدادوں کو تعزیری اقدام کے طور پر منہدم کرنے کی روایت کو یکسر غیر قانونی قرار دیا تھا۔ عدالت نے اراضی پر مبینہ تجاوزات کو ہٹانے کے لیے ایک سخت اور شفاف قانونی طریقہ کار وضع کیا تھا، جس میں پیشگی نوٹس اور صفائی کا موقع دینا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، اس عدالتی فیصلے کے باوجود خاص طور پر بی جے پی مقتدرہ ریاستوں میں بلڈوزر کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا، جس کے خلاف گجرات، مہاراشٹر اور اتر پردیش سمیت کئی ریاستوں سے سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔
سماعت کے دوران گجرات کے تاریخی شہر سومناتھ میں مساجد اور درگاہوں کی مبینہ طور پر غیر قانونی مسماری کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ یہ صریحاً عدالتی احکامات کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس پر سپریم کورٹ کو فوری مداخلت کرنی چاہیے۔ اسی طرح مہاراشٹر کے ایک کیس کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ریاست میں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے پبلک پلیٹ فارم پر ‘بلڈوزر ایکشن’ کے اعلانات کیے گئے اور اس کے فوراً بعد کارروائی کی گئی، جو عدالتی احکامات کی توہین ہے۔
معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے چیف جسٹس سوریا کانت نے ریمارکس دیے کہ نومبر 2024 کے فیصلے میں کچھ استثنیٰ بھی رکھے گئے تھے، جیسے کہ اگر کوئی تعمیراتی ڈھانچہ پبلک اسٹریٹ، فٹ پاتھ یا عوامی مقامات پر ناجائز تجاوزات کے زمرے میں آتا ہو تو اس پر گائیڈ لائنز لاگو نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ جب بلدیاتی یا ریاستی حکام دفاع میں انھی استثنیٰ کا سہارا لیتے ہیں تو یہ ایک حقائق پر مبنی تنازع بن جاتا ہے۔ ایسے متنازع حقائق کی گہرائی میں جا کر انفرادی طور پر فیصلہ کرنا توہینِ عدالت کے دائرہ اختیار میں ممکن نہیں ہے، اس لیے ہائی کورٹس ان مقامی اور علاقائی حقائق کا زیادہ بہتر جائزہ لے سکتی ہیں۔
عدالتِ عظمیٰ کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب حال ہی میں الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے نومبر 2024 کے واضح احکامات کے باوجود اتر پردیش میں تعزیری کارروائی کے طور پر بلڈوزر کا استعمال مسلسل کیا جا رہا ہے۔ اس نئے عدالتی رخ کے بعد اب بلڈوزر ایکشن کے خلاف قانونی جنگ کی قیادت ریاستی ہائی کورٹس کے پاس چلی گئی ہے، جہاں متاثرین کو اب انفرادی طور پر اپنے مقدمات ثابت کرنے ہوں گے۔




