طلبہ کے خلاف تمام مقدمات ختم : سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، سی جے پی کا احتجاجی مارچ منسوخ

سپریم کورٹ آف انڈیا نے نئی دہلی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ کے حالیہ احتجاج کے دوران درج کی گئی تمام ایف آئی آرز کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ میں منگل کے روز ہونے والی اس اہم سماعت کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی نے قومی دارالحکومت میں 5 ستمبر کو شیڈول احتجاجی مارچ باقاعدہ طور پر منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ عدالت نے حکومت کو یہ حکم بھی دیا کہ نیٹ پیپر تنازع کے دوران مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے طلبہ کے متاثرہ خاندانوں کو تین ماہ کے اندر مالی معاوضہ ادا کیا جائے۔

سماعت کے دوران مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بینچ کو آگاہ کیا کہ حکومت مظاہرین کے ساتھ طے پانے والی تینوں اہم یقین دہانیوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان یقین دہانیوں کے تحت 20 جولائی سے 25 جولائی کے درمیان درج مقدمات کی پیروی ترک کرنا، اس سلسلے میں کوئی نئی ایف آئی آر درج نہ کرنا اور جاں بحق طلبہ کے پسماندگان کو مالی امداد کی فراہمی شامل ہے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ سنگین مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث 2,873 افراد کے خلاف قانون کے مطابق تازہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔

مظاہرین کے نمائندے سورو داس نے سپریم کورٹ میں ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر بتایا کہ حکومت کی جانب سے مقدمات واپس لینے کے اقدامات کے پیش نظر مجوزہ احتجاجی مارچ واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب مرکزی وزیر جے پی نڈا نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے اور بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں سے مشاورت کے بعد طلبہ کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ اقدام ملک بھر میں تعلیمی بے چینی اور طلبہ برادری کے اندر پائی جانے والی شدید تشویش کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ احتجاج کے دوران سینکڑوں نوجوانوں پر قانونی مقدمات کے بادل منڈلا رہے تھے، جس سے ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ کیریئر کو خطرات لاحق تھے۔ اس فیصلے کے بعد متاثرہ طلبہ کو بڑی قانونی راحت مل گئی ہے۔

عدالتی احکامات کے تحت اب مرکزی و ریاستی حکومتوں کو تین ماہ کے اندر معاوضے کی باقاعدہ ادائیگی کا عمل مکمل کرنا ہوگا تاکہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی ممکن ہو سکے۔

شیئر کریں۔