سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کر دی، دیگر پانچ کو رہائی

سپریم کورٹ نے جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ کے ذریعے پیر کو 2020 دہلی فسادات کی مبینہ سازش کے معاملے میں اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی، جب کہ دیگر پانچ ملزمان کو ضمانت دے کر رہا کرنے کا حکم دیا۔

یاد رہے کہ عدالت نے 10 دسمبر 2025 کو کیس کے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ آج عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کے خلاف الزامات کی سنگینی اور پیش کردہ شواہد کی نوعیت ضمانت کے لیے کافی نہیں ہیں۔

عدالت نے گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پانچ سالہ مسلسل حراست غیر ضروری ہو چکی ہے۔ عدالت نے انہیں فوری طور پر رہائی کا حکم دیا۔

یہ مقدمہ 2020 میں شہریت (ترمیمی) قانون (CAA) اور مجوزہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (NRC) کے خلاف احتجاج کے دوران پھوٹنے والے فسادات سے متعلق “بڑی سازش” کے الزام پر درج کیا گیا تھا۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے

تمام ملزمان کے خلاف انسداد غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ (UAPA) کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔ دہلی پولیس نے بارہا عدالت کو بتایا تھا کہ یہ مقدمہ ایک منظم سازش کا حصہ ہے۔ شرجیل امام جنوری 2020 سے اور عمر خالد ستمبر 2020 سے جیل میں قید ہیں۔