اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں سندر پچائی کے خطاب کے دوران طلبہ کافلسطینی پرچم اور کیفیہ کے ساتھ احتجاج

امریکہ کی مایہ ناز اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ۱۳۵ ویں گریجویشن تقریب اس وقت ایک تاریخی اور احتجاجی میدان میں تبدیل ہو گئی جب دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سندر پچائی کے کلیدی خطاب کے دوران ۱۰۰ سے زائد فارغ التحصیل طلبہ نے تقریب کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ہال سے واک آؤٹ کر دیا۔ کانووکیشن کے روایتی لباس کے اوپر فلسطینی ثقافت کی علامت ‘کیفیہ’ (فلسطینی رومال) پہنے اور ہاتھوں میں مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں پرچم اٹھائے ان طلبہ نے جیسے ہی سندر پچائی اسٹیج پر پہنچے، "آزاد، آزاد فلسطین” کے فلک شگاف نعرے لگانا شروع کر دیے۔ طلبہ نے سندر پچائی کی موجودگی میں اپنی نشستیں چھوڑ دیں اور احتجاجاً اسٹینفورڈ اسٹیڈیم سے باہر نکل گئے۔ اس احتجاج کی قیادت ’اسٹینفورڈ اسٹوڈنٹس فور جسٹس ان پیلسٹائن‘ اور ’نو ٹیک فور اپارتھائیڈ‘ مہم کے بینر تلے کی گئی۔

مظاہرے کے منتظمین اور طلبہ گروپوں نے بعد میں جاری کردہ اپنے بیانات میں اس بات کو بالکل واضح کیا کہ یہ احتجاج ذاتی طور پر سندر پچائی کی ذات کے خلاف نہیں تھا، بلکہ یہ گوگل کے ان ادارہ جاتی فیصلوں اور پالیسیوں کے خلاف ایک اصولی جنگ ہے جس کے تحت وہ غاصب اسرائیلی فوج اور صیہونی حکومت کو جدید ترین ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے۔ طلبہ کا اصل نشانہ گوگل اور امیزون کا اسرائیل کے ساتھ ہونے والا متنازع ’پروجیکٹ نمبس‘ (Project Nimbus) ہے۔ یہ پروجیکٹ دراصل اپریل ۲۰۲۱ء میں اسرائیلی حکومت، گوگل اور امیزون ویب سروسیز کے مابین طے پانے والا ایک طویل مدتی اور سات سالہ معاہدہ ہے، جس کی کل مالیت تقریباً ۲ء۱ ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اس اسٹریٹجک معاہدے کے تحت یہ دونوں بڑی امریکی کمپنیاں اسرائیل کے دفاعی محکموں، انٹیلیجنس ایجنسیوں اور سیکوریٹی اداروں کو کلاؤڈ کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) اور کلاؤڈ سروسیز جیسی جدید ترین ٹیکنالوجیز فراہم کر رہی ہیں۔

انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی ناقدین کا دعویٰ ہے کہ گوگل اور امیزون کی فراہم کردہ اسی ٹیکنالوجی اور اے آئی سسٹم کو اسرائیلی فوج غزہ اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کی سخت ترین نگرانی، چہروں کی شناخت (فیشل ریکگنیشن)، فضائی حملوں کے لیے اہداف کا تعین کرنے اور انٹیلیجنس ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے استعمال کر رہی ہے، جو براہِ راست معصوم شہریوں کی نسل کشی کا سبب بن رہا ہے۔ حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک انتہائی حساس اور اہم رپورٹ بعنوان ”قبضے کی معیشت سے نسل کشی کی معیشت تک“ میں بھی الفابیٹ (گوگل کی بنیادی کمپنی)، مائیکروسافٹ اور امیزون کو باضابطہ طور پر ان مجرم مینوفیکچررز اور اداروں میں شامل کیا گیا ہے جو فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسل پرستانہ اور ظالمانہ پالیسیوں میں برابر کے شریک ہیں۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کمپنیاں ایسی ٹیکنالوجی فراہم کر کے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی کو ممکن بنا رہی ہیں۔ اگرچہ گوگل کا ہمیشہ سے یہ دفاع رہا ہے کہ یہ معاہدہ صرف عام سرکاری کاموں کے لیے ہے، لیکن خود گوگل کے اندر بھی اس پر شدید اخلاقی بحران پیدا ہو چکا ہے اور ۲۰۲۴ء میں اس معاہدے کے خلاف احتجاج کرنے پر گوگل نے کیلی فورنیا اور نیویارک میں اپنے درجنوں ملازمین کو نوکری سے نکال دیا تھا، جبکہ کمپنی کے سیکوریٹی ڈائریکٹر نے بھی گوگل کے "اخلاقی سمت کھونے” کا الزام لگا کر استعفیٰ دے دیا تھا۔

اسٹینفورڈ کی اس کانووکیشن تقریب میں ایک اور عجیب منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب دنیا کی سب سے بڑی اے آئی کمپنی کے سربراہ ہونے کے باوجود سندر پچائی نے اپنے پورے خطاب کے دوران ’آرٹیفیشل انٹیلیجنس‘ کے موضوع پر بات کرنے سے مکمل گریز کیا، جبکہ دنیا بھر کے طلبہ ان سے اسی موضوع پر سننے کے منتظر تھے۔ انہوں نے صرف اپنے نام کا ایک چھوٹا سا مذاق کرتے ہوئے کہا کہ "اے آئی میرے خاندانی نام (Pichai) کے آخری دو حروف ہیں” اور طلبہ کو صرف رجائیت پسندی اور مشکل راستوں کا انتخاب کرنے کا روایتی مشورہ دیا۔ تقریب کے فوری بعد جب بی بی سی کے ایک عالمی صحافی نے سندر پچائی سے طلبہ کے اس بڑے واک آؤٹ اور فلسطین تحریک کے بارے میں سوال پوچھا تو پچائی نے کوئی بھی جواب دینے سے انکار کر دیا اور خاموشی سے اسٹیڈیم سے باہر نکل گئے۔ دوسری طرف، اس واک آؤٹ کے بعد امریکہ میں موجود دو ممتاز ہند نژاد امریکی شخصیات کے درمیان سوشل میڈیا پر ایک شدید نظریاتی جنگ چھڑ گئی۔ نامور وینچر کیپیٹلسٹ ونود کھوسلا نے احتجاج کرنے والے مسلم اور دیگر انصاف پسند طلبہ پر تنقید کرتے ہوئے انہیں "تعصب پسند، احمق اور انتہائی خود غرض” قرار دیا اور کہا کہ وہ اے آئی کے معاشی فوائد کو نظرانداز کر رہے ہیں۔

ونود کھوسلا کے اس متنازع اور سخت ترین بیان پر امریکی سیاست کے مروجہ ڈیموکریٹک کانگریس مین رو کھنہ نے فوری اور کرارا جواب دیتے ہوئے صیہونی لابی کو آئینہ دکھایا۔ رو کھنہ نے ایکس (ٹویٹر) پر کھوسلا کو چیلنج کیا اور لکھا کہ ان طلبہ نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جاری وحشیانہ نسل کشی کے پیشِ نظر اسرائیلی دفاعی افواج کے ساتھ گوگل کے فوجی معاہدے کے خلاف احتجاجاً واک آؤٹ کیا ہے، اور کسی کا اس پر کوئی بھی موقف ہو، ان طلبہ کے پاس یہ پورا جمہوری حق حاصل ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پامالی پر حکام کو چیلنج کریں اور اپنی اظہارِ رائے کی آزادی کا استعمال کریں۔ اس احتجاج کے متوازی، کانووکیشن کے بعد طلبہ نے ایک متبادل تقریب ’پیپلز کمنسمنٹ‘ کا بھی انعقاد کیا جہاں فلسطینی نژاد امریکی کارکن محمود خلیل نے گریجویٹس کو ایک تاریخی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی زندگی میں آپ کو دنیاوی آرام و آسائش اور اپنے ضمیر کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے، تو ایک سچے انسان کی طرح ہمیشہ اپنے پاک ضمیر کا ہی انتخاب کرنا۔

شیئر کریں۔