اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، کمزوروں کا سہارا بننا ہی اصل دین ہے: مولانا شاکر اللہ رشادی
ایس ایس سی ایسوسی ایشن گنگولی کی جانب سے اڈپی ضلع
کے مختلف مسلم مینجمنٹ اسکولوں کے مابین ایک عظیم الشان مکالمہ و اسکٹ مقابلہ منعقد کیا گیا، جس میں دینی، سماجی اور اصلاحی موضوعات پر مبنی متنوع پروگرام پیش کیے گئے۔ اس علمی و فکری اجتماع میں اسکولی طلبہ و طالبات نے اپنے تخلیقی جوہر، فکری پختگی اور سماجی شعور کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
اسکٹ مقابلے میں تین طلاق، والدین کی نافرمانی، نشہ خوری کے نقصانات، اسلامی اقدار، سماجی بگاڑ اور نوجوانوں کی ذمہ داریاں جیسے نہایت حساس اور عصری موضوعات کو مؤثر ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا، جس نے حاضرین کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ سوچنے پر بھی مجبور کر دیا۔ طلبہ کی جانب سے پیش کردہ مکالموں اور مناظر کو سامعین و ناظرین نے بے حد سراہا۔
مقابلے میں شریک اسکولوں کے درمیان سخت اور دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملا، جس کے نتائج درج ذیل رہے
پہلا مقام: ضیاء انگلش میڈیم اسکول، کنڈلور
دوسرا مقام: توحید انگلش میڈیم اسکول، گنگولی
تیسرا مقام: توحید انگلش میڈیم اسکول، شرور
کامیاب ٹیموں کے علاوہ تمام شریک طلبہ کو مہمانانِ خصوصی کے ہاتھوں ٹرافیوں، اسناد اور انعامات سے نوازا گیا۔ اس موقع پر تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے اور ڈگری مکمل کرنے والے طلبہ کی شال پوشی بھی کی گئی۔ مزید برآں ایس ایس سی کی جانب سے منعقدہ کوئز، ڈرائنگ، مہندی اور مختلف اسپورٹس مقابلوں میں امتیازی کارکردگی دکھانے والے بچوں کو بھی انعامات دیے گئے۔
پروگرام کے دوران ایس ایس سی ایسوسی ایشن گنگولی کی سالانہ رپورٹ پیش کی گئی، جس میں ادارے کی فلاحی سرگرمیوں، مریضوں کے علاج و معالجہ، غریبوں کی امداد، خواتین ونگ کی خدمات اور سماجی ذمہ داریوں پر مبنی اقدامات کی تفصیل بیان کی گئی۔
جلسے کے مہمانِ خصوصی مولانا شاکر اللہ رشادی نے ایس ایس سی کے نوجوانوں کو ان کی خدمات پر مبارکباد پیش کی ، انہوں نے اپنے پُراثر خطاب میں کہا کہ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس میں خدمتِ خلق، یتیموں و مسکینوں کی کفالت، بیماروں کی تیمارداری اور معاشرتی اصلاح کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کیا کہ جو معاشرہ کمزور طبقے کا سہارا بنتا ہے وہی حقیقی اسلامی معاشرہ کہلاتا ہے، اور یہی اعمال بندے کو اللہ کے قرب کا مستحق بناتے ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں کو خصوصی طور پر نشہ، بری صحبت اور اخلاقی انحطاط سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ قوموں کی تعمیر و تباہی کا دار و مدار نوجوان نسل کے کردار پر ہوتا ہے۔ والدین کے احترام، بیٹیوں کے تحفظ اور سماجی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے اتحاد، اخلاص اور عملی خدمت کو ملت کی ترقی کی بنیاد قرار دیا۔
اسی موقع پر ایس ایس سی کے سرپرست مولانا محمد ابراہیم نے اپنے بیان میں گنگولی کی عوام سے اپیل کی کہ وہ باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد، اعتماد اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں اور سماج کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کریں۔
جلسے کی نظامت کے فرائض مولانا عبدالکریم ندوی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے، جبکہ پروگرام کے اختتام پر شکریہ کلمات اور اجتماعی دعا کے ساتھ اس بامقصد اجتماع کا اختتام عمل میں آیا۔
