نابالغ بیٹے کو گاڑی دینے والے والد کو عدالت نے ٹھہرایا قصوروار، جیل اور بھاری جرمانہ

جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور نابالغوں کی جانب سے گاڑی چلانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر روک تھام کے لیے ایک انتہائی اہم اور عبرت ناک عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔ سری نگر کی خصوصی موبائل مجسٹریٹ (ٹریفک) شبیر احمد ملک کی عدالت نے ایک سنگین معاملے کی سماعت کرتے ہوئے اس والد کو قصوروار قرار دیا ہے جس نے اپنے نابالغ بیٹے کو سڑک پر گاڑی چلانے کی اجازت دی تھی۔ عدالت نے سڑکوں پر معصوم شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ، حادثات کے سدباب اور ٹریفک قوانین کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے مقصد سے یہ سخت فیصلہ سنایا ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران واضح کیا گیا کہ بچوں کے سرپرستوں اور گاڑیوں کے مالکان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔

دستیاب عدالتی ریکارڈ اور ٹریفک پولیس کی رپورٹ کے مطابق سری نگر کے گنجان آباد علاقے فتح کدل کے رہائشی ہارون خان کی ملکیت والی گاڑی کو ایک نابالغ لڑکا سڑک پر چلاتا ہوا پایا گیا تھا۔ ٹریفک پولیس حکام نے موقع پر ہی اس خلاف ورزی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے گاڑی کا چالان کیا اور معاملہ عدالت کے سپرد کر دیا۔ عدالتی سمن جاری ہونے کے بعد ہارون خان اپنے قانونی وکیل کے ہمراہ خصوصی موبائل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے مذکورہ گاڑی کا اصل مالک ہونے کا اعتراف کیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کی متعلقہ دفعات بالخصوص دفعہ 199-اے اور دفعہ 180 کا تفصیلی اور قانونی جائزہ لیا۔

عدالت عالیہ نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ قانون کے مطابق اگر کوئی بھی نابالغ بچہ موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت کسی بھی قسم کی خلاف ورزی یا سڑک پر گاڑی چلاتا ہوا پکڑا جاتا ہے تو اس کے والدین، سرپرست یا گاڑی کے رجسٹرڈ مالک کو ہی قانوناً اس کا براہ راست ذمہ دار تصور کیا جائے گا۔ اس قانونی حقیقت کے پیش نظر عدالت نے ہارون خان کو اپنے فرائض میں لاپرواہی برتنے پر قصوروار ٹھہرایا۔ کارروائی کے دوران جب ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا اور مقدمے کی مزید طویل سماعت کا مطالبہ نہیں کیا تو عدالت نے دفعہ 199-اے کے تحت تین سال سادہ قید اور 25 ہزار روپے جرمانے کی سزا تجویز کی، جبکہ دفعہ 180 کے تحت مزید تین ماہ سادہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سامنے رکھی۔ اس کے ساتھ ہی گاڑی کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بھی ایک سال کے لیے منسوخ کرنے کا حکم دیا گیا۔

تاہم معزز عدالت نے انسانی ہمدردی اور ملزم کے ماضی کے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بھی نوٹ کیا کہ اس پورے معاملے میں کسی قسم کی اخلاقی بدعنوانی یا مجرمانہ ذہنیت شامل نہیں تھی، بلکہ یہ بچوں کی تربیت میں ایک غفلت کا معاملہ تھا۔ ملزم کا ماضی کا ریکارڈ بالکل صاف تھا اور اسے پہلے کبھی کسی بھی سول یا جنائی جرم میں قصوروار نہیں ٹھہرایا گیا تھا۔ ان تمام حقائق اور صاف ستھرے پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی عدالت نے ملزم ہارون خان کو پروبیشن آف آفینڈرز ایکٹ کا فائدہ دینے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں سدھرنے کا ایک موقع مل سکے۔

عدالت نے حتمی حکم جاری کرتے ہوئے ہارون خان کو ہدایت دی کہ وہ دو سال کی مدت تک سوسائٹی میں امن و امان برقرار رکھنے اور اچھے شہری کے طور پر کردار کا مظاہرہ کرنے کی شرط پر دو لاکھ روپے کے مچلکے عدالت میں جمع کرائیں۔ عدالت نے سخت لہجے میں خبردار کیا کہ اگر اس دو سالہ پروبیشن کی مدت کے دوران مچلکے کی کسی بھی شرط کی خلاف ورزی کی گئی یا دوبارہ ایسی لاپرواہی سامنے آئی تو تجویز کردہ جیل کی سزا اور جرمانہ فوری طور پر نافذ العمل کر دیا جائے گا۔ عدالت نے ضبط شدہ گاڑی اور دیگر دستاویزات کو تو مالک کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ ریلیف بھی دیا کہ اس فیصلے کی وجہ سے ملزم کے لیے سرکاری یا نجی ملازمت، پاسپورٹ کے حصول یا کسی بھی قسم کی سرکاری جانچ میں کوئی قانونی نااہلی رکاوٹ نہیں بنے گی۔

شیئر کریں۔