کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے غزہ جنگ، اسرائیل اور ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے مرکزی حکومت کی حکمت عملی پر سخت تنقید کی ہے۔ انگریزی اخبار میں شائع اپنے ایک خصوصی مضمون میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ہندوستان نے اپنی روایتی اور متوازن خارجہ پالیسی برقرار رکھی ہوتی تو مغربی ایشیا میں اس کا کردار کہیں زیادہ مؤثر اور قائدانہ ہو سکتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی دہلی پورے خطے میں ایک معتبر ثالث کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی، لیکن موجودہ حکومت کی یکطرفہ پالیسیوں کے باعث یہ تاریخی موقع ہاتھ سے نکل گیا اور اس سفارتی خلا کی وجہ سے خطے میں پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھ گیا۔
سونیا گاندھی نے اپنے مضمون میں وضاحت کی ہے کہ ہندوستان نے کئی دہائیوں تک فلسطین، ایران اور مغربی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ انتہائی متوازن، خود مختار اور قابل اعتماد تعلقات قائم رکھے تھے۔ موجودہ مودی حکومت کی خاموشی اور اسرائیل کی جانب غیر معمولی جھکاؤ نے ہندوستان کی اس دیرینہ عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق، اگر ملک اپنی غیر جانبدارانہ سفارتی تاریخ پر قائم رہتا تو مغربی ایشیا میں کسی بھی بڑے تناؤ یا ایران امریکہ تصادم کی صورت میں فطری ثالث بن کر ابھرتا، جس سے پڑوسی ملک کو خطے کی سیاست میں مداخلت کا کوئی موقع نہ ملتا۔
مغربی ایشیا کے تاریخی شراکت داروں سے فاصلہ اختیار کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے لکھا کہ اس طرز عمل نے نہ صرف ہندوستان کی اخلاقی حیثیت کو عالمی سطح پر کمزور کیا ہے بلکہ ملکی اسٹریٹجک اور معاشی مفادات کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان کے پاس تمام فریقوں کے ساتھ تعمیری مکالمے کا طویل تجربہ اور دیرینہ تعلقات کی بنیاد موجود رہی ہے، جسے موجودہ سفارتی سمت نے گہرا دھچکا پہنچایا ہے۔
غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری غزہ میں معصوم بچوں اور شہریوں پر ہونے والے مظالم پر سراپا احتجاج ہے۔ کمیشن نے اسرائیلی فوجی اقدامات کو فلسطینیوں کے وجود پر حملہ قرار دیا ہے، جہاں ہزاروں بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں اور طبی و تعلیمی انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگرچہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیا گیا ابتدائی حملہ مکمل طور پر ناقابل قبول اور قابل مذمت تھا، لیکن اس کے جواب میں اسرائیل کی فوجی کارروائی دفاعی حد سے تجاوز کر کے ایک بدترین انسانی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے۔
سونیا گاندھی نے عالمی برادری بالخصوص امریکہ کی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی قیادت کی اندھی حمایت کے سبب اسرائیل عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ دوسری طرف دنیا کے کئی مغربی ممالک نے فلسطین کو باقاعدہ تسلیم کرنے کی جانب قدم بڑھائے ہیں۔ جنوبی افریقہ نے بین الاقوامی عدالت انصاف میں اس انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور کئی ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کر رہے ہیں، مگر ایسے سنگین حالات میں بھی ہندوستانی حکومت کا معذرت خواہانہ رویہ اور خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔
مضمون کے اختتام پر انہوں نے یاد دلایا کہ ہندوستان ہمیشہ سے نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد، بین الاقوامی امن اور بنیادی انسانی حقوق کا علمبردار رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا موجودہ سفارتی رخ اس تاریخی نظریے کے برعکس ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ ہندوستان کو صرف اخلاقی بنیادوں پر ہی نہیں بلکہ اپنے وسیع تر قومی اور تزویراتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مغربی ایشیا میں دوبارہ ایک متوازن اور خودمختار موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ خطے میں ملک کا وقار بحال ہو سکے۔


