لکھنؤ : سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاست میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ مکمل کریں اور اس دوران عوام کی رہنمائی اور مدد کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹوں سے متعلق یہ عمل جمہوری نظام کی بنیاد ہے، اس لیے اس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ناقابلِ قبول ہے۔
بدھ کے روز پارٹی کے ریاستی دفتر میں مختلف اضلاع سے آئے ہوئے کارکنوں اور لیڈروں سے گفتگو کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر کے عمل کا براہِ راست تعلق انتخابی شفافیت سے ہے اور اس پر پوری ذمہ داری کے ساتھ عمل کرنا ہر کارکن کی آئینی ذمہ داری بنتی ہے۔ ان کے مطابق، اس پورے مرحلے میں الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری اور ساکھ کو برقرار رکھنا بھی نہایت اہم ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ حکمراں جماعت بی جے پی اس عمل کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، لہٰذا سماجوادی پارٹی کے کارکنوں کو مکمل طور پر ہوشیار اور چوکنا رہنا چاہیے۔ اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی، سماجوادی پارٹی کی بڑھتی ہوئی عوامی حمایت سے خوف زدہ ہے اور اسی وجہ سے گمراہ کن بیانیہ اور منفی مہم کا سہارا لے رہی ہے۔
ایس پی صدر نے ووٹر ڈیٹا سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گرام پنچایت سطح پر درج ووٹروں کی تعداد اور اسمبلی و لوک سبھا حلقوں کے اعداد و شمار میں فرق تشویش کا باعث ہے، جس پر سنجیدہ غور و فکر اور شفاف وضاحت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے انتخابات کی تیاری کا دار و مدار آج کی محنت پر ہے اور 2026 میں کی جانے والی کوششیں ہی 2027 کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی کی بنیاد بنیں گی۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ سماجوادی پارٹی آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے منظم حکمتِ عملی کے ساتھ میدان میں ہے اور ریاست میں حکومت بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی کی حکومت بننے کی صورت میں خواتین کے لیے سالانہ 40 ہزار روپے کی مالی مدد، کسانوں کے مفاد میں عملی فیصلے اور نوجوانوں کے لیے روزگار پر مبنی اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی کے دورِ اقتدار میں بدعنوانی، لوٹ کھسوٹ اور منشیات کا کاروبار تیزی سے پھیل رہا ہے اور عوامی مفادات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
