ڈھاکہ : بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے ملک میں ہونے والے انتخابات کو کالعدم قرار دینے اور نئے سرے سے انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ انہوں نے اپنی جماعت عوامی لیگ پر عائد پابندی کے خلاف اقوام متحدہ میں عرضی داخل کی ہے، جس میں پارٹی کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت دینے اور سیاسی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
شیخ حسینہ، جو جلد بنگلہ دیش واپس آنے کا ارادہ ظاہر کرچکی ہیں، نے اپنی عرضی میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں بنگلہ دیش کی عدالتوں سے انصاف ملنے کی امید نہیں ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے معاملے کو اقوام متحدہ کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ بعد ازاں 2026 کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پارٹی کی جانب سے متعدد کوششیں کی گئیں، تاہم اسے انتخابی میدان میں اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اسی بنیاد پر شیخ حسینہ نے انتخابات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں کالعدم قرار دینے اور دوبارہ انتخابات منعقد کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بنگلہ دیشی اخبار ’’مانو جیون‘‘ کے مطابق شیخ حسینہ کی جانب سے اقوام متحدہ میں عرضی داخل کیے جانے کے بعد طارق رحمن کی حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ عرضی میں سابق وزیراعظم نے موجودہ حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی تشکیل اور انتخابی عمل کی شفافیت پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
شیخ حسینہ نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق متعدد دفعات کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ ان میں اظہار رائے کی آزادی سے متعلق دفعہ 19، پرامن اجتماعات کے حق سے متعلق دفعہ 21، تنظیم سازی کی آزادی سے متعلق دفعہ 22 اور سیاسی حقوق سے متعلق دفعہ 25 شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ عوامی لیگ بنگلہ دیش کی قدیم ترین سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے، لیکن اس کے باوجود اسے انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔ شیخ حسینہ کے مطابق کسی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا اس کے بنیادی سیاسی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
سابق وزیراعظم نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ طارق رحمن کی حکومت کے اقتدار میں آنے کی ایک بڑی وجہ انتخابات میں عوامی لیگ کے امیدواروں کی عدم موجودگی تھی۔ ان کے بقول اگر عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے کا موقع دیا جاتا تو طارق رحمن وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے۔
اطلاعات کے مطابق شیخ حسینہ کی جانب سے اقوام متحدہ میں یہ عرضی معروف وکیل اسٹیون پاویلس کے سی (کنگز کاؤنسل) نے داخل کی ہے۔
درخواست میں بنگلہ دیش کے موجودہ عدالتی اور سیاسی حالات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طارق رحمن کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد وکلاء عوامی لیگ کے کارکنوں کے مقدمات لڑنے سے گریز کررہے ہیں۔
عرضی میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ جو وکلاء عوامی لیگ سے متعلق مقدمات میں قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے سامنے آتے ہیں، انہیں حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے لیے قانونی تحفظ اور انصاف کا حصول مشکل ہوگیا ہے۔
شیخ حسینہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں موجودہ صورت حال کے پیش نظر انہیں اور ان کی جماعت کو غیر جانب دارانہ انصاف ملنے کی توقع نہیں، جس کے باعث بین الاقوامی سطح پر رجوع کرنا ضروری ہوگیا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی لیگ پر عائد پابندی کے معاملے کا جائزہ لیا جائے، جماعت کو سیاسی سرگرمیوں اور انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دلائی جائے اور بنگلہ دیش میں نئے سرے سے انتخابات کرانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔




