کڑکڑڈوما عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج سمیر بجپائی کے روبرو دہلی فسادات ’’لارجر کانسپریسی‘‘ کیس (ایف آئی آر 59/2020) میں چارج فریمنگ پر دلائل کے دوران شرجیل امام کے وکیل طالب مصطفیٰ نے کہا کہ پولیس کا الزام کہ عمر خالد شرجیل کے ’’گرو یا مرشد‘‘ تھے، مکمل طور پر جھوٹا ہے اور دونوں کے درمیان کسی قسم کی ہم آہنگی یا رابطہ ثابت نہیں ہو سکا۔
شرجیل نے خود بیان دیا کہ ’’JNU میں پانچ سال قیام کے دوران عمر خالد سے کبھی بات نہ کی، نہ ہی کوئی ہم آہنگی تھی، سازش ثابت کرنے کے لیے اتفاق کا ثبوت درکار ہے جو پولیس پیش نہ کر سکی‘‘، اور ایک میٹنگ میں بھی تشدد یا فسادات کی کوئی بات نہیں ہوئی جس کی گواہ کی بیان بھی موجود ہے۔
تشدد کی حمایت سے انکار
شرجیل کے وکیل نے مزید کہا کہ شرجیل نے کبھی تشدد کی حمایت نہ کی، بلکہ ان کے خطوط، بروشرز اور تقاریر میں غیر تشدد (نان وائلنس) پر زور دیا گیا، جبکہ پولیس انہیں فسادات کی ’’منصوبہ بندی‘‘ کا حصہ بتاتی ہے جو بالکل بے بنیاد ہے۔
عدالت میں دلائل جاری ہیں جہاں شرجیل کا مؤقف ہے کہ سی اے اے احتجاج ایک وسیع تحریک تھی جس میں کئی لوگ شامل تھے، مگر اسے ’’سازش‘‘ قرار دینا غلط ہے کیونکہ کوئی براہِ راست تشدد کا ثبوت یا ہتھیاروں کی برآمدگی نہیں۔
دہلی فسادات 2020 کا پس منظر
نارتھ ایسٹ دہلی میں فروری 2020 میں سی اے اے کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان ہونے والے فسادات میں 53 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جن میں اکثریت مسلمان تھی، جبکہ دہلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ نریندر مودی حکومت کو بدنام کرنے کی ’’بڑی سازش‘‘ کا نتیجہ تھا جو احتجاج کرنے والوں نے رچائی۔
ملزمین پر یو اے پی اے، انڈین پینل کوڈ کی دفعات، پراپرٹی کو نقصان پہنچانے اور ہتھیاروں کے قانون کے تحت مقدمات درج ہیں، اور پولیس کا الزام ہے کہ شرجیل امام اور عمر خالد جیسی شخصیات نے احتجاج کو ’’چکہ جام‘‘ (سڑکوں کی ناکہ بندی) جیسے اقدامات سے تشدد کی طرف موڑ دیا
عمر خالد اور شرجیل امام پر مقدمات
شرجیل امام اور عمر خالد کو جنوری سے ستمبر 2020 تک گرفتار کیا گیا، اور دونوں پر الزام ہے کہ وہ احتجاج کی منصوبہ بندی، کوآرڈینیشن اور نظریاتی رہنمائی کر رہے تھے، جس میں واٹس ایپ گروپس، میٹنگز اور تقاریر شامل ہیں۔
شرجیل نے عدالت میں کہا کہ پولیس نے ان کی تقاریراور بروشرز کی غلط تشریح کی، جبکہ اصل میں انہوں نے تشدد کی بجائے پرامن احتجاج کی بات کی، اور کوئی مالی مدد یا ہتھیاروں کی فراہمی کا ثبوت بھی نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کا ضمانت پر فیصلہ
پیر کو سپریم کورٹ نے دہلی فسادات ’’لارجر کانسپریسی‘‘ کیس میں شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت مسترد کر دی، جبکہ گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمٰن، شاداب احمد اور محمد سالم خان سمیت پانچ دیگر کو ضمانت دے دی۔
عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ دونوں کا کردار ’’مرکزی اور آرکیٹیکچرل‘‘ ہے، یعنی وہ احتجاج کی منصوبہ بندی اور کوآرڈینیشن کے ’’اوپر کی سطح‘‘ پر تھے، اور یو اے پی اے کی دفعہ 43ڈی(5) کے تحت پرائم فیسی کیس بنتا ہے، اس لیے ضمانت نہیں مل سکتی۔
ضمانت کی شرائط اور دیگر ملزمین
سپریم کورٹ نے شرجیل اور عمر کو حکم دیا کہ تمام محفوظ گواہوں کی گواہی مکمل ہونے یا ایک سال بعد وہ دوبارہ ضمانت کی درخواست دے سکتے ہیں، جبکہ دیگر پانچ کو ضمانت اس بنیاد پر ملی کہ ان کا کردار ’’لوکل اور ایپی سوڈک‘‘ تھا، نہ کہ مرکزی سازش کا حصہ۔
عدالت نے واضح کیا کہ یہ فیصلے انفرادی ہیں اور دیگر ملزمین اس بنیاد پر برابر کا دعویٰ نہ کریں
