تعلیمی میدان سے اٹھنے والے فتنوں سے نئی نسل کے ایمان کی حفاظت ضروری : مولانا محمد الیاس ندوی
ولکی (فکروخبر نیوز) ہوناور تعلقہ کے ولکی میں شراوتی مسلم کونسل کے زیرِ اہتمام شراوتی تعلیمی ایوارڈ کی تقریب اتحاد پبلک اسکول کے فنکشن ہال میں منعقد ہوئی۔ کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عبداللہ سکری کی صدارت میں منعقدہ تقریب میں مختلف تعلیمی شعبوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے 13 سے زائد طلبہ و طالبات کو میڈلس، سرٹیفکیٹس اور گراں قدر انعامات سے نوازا گیا۔ تقریب میں جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے اہم ذمہ دار، بانی و جنرل سکریٹری مولانا ابوالحسن علی ندوی اسلامک اکیڈمی بھٹکل مولانا محمد الیاس ندوی نے بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے رکنِ شوریٰ مولانا عبدالمتین منیری سمیت بھٹکل اور اطراف کے دیگر ذمہ داران بھی موجود رہے۔
تقریب میں ایس ایس ایل سی، پی یو سی، ڈگری، انجینیئرنگ اور دیگر تعلیمی شعبوں میں امتیازی کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو مہمانان کے ہاتھوں اعزازات پیش کیے گئے۔ اس موقع پر مقررین نے کامیاب طلبہ، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے تعلیمی سفر میں مزید محنت کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کی۔ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں محمد براق ابن خواجہ شیخ خصوصی طور پر قابلِ ذکر رہے، جنہوں نے اتحاد پبلک اسکول ولکی سے حفظِ قرآن مکمل کرنے کے ساتھ دسویں جماعت کے امتحان میں 96.8 فیصد نمبر حاصل کرکے اول مقام حاصل کیا۔
مہمانِ خصوصی مولانا محمد الیاس ندوی نے اپنے خطاب میں مخلوط تعلیم کے نقصانات اور اسلامی تعلیم کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے نوجوان نسل کے تیزی سے دین سے دور ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے نونہالوں کے ایمان و کردار کی حفاظت کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں اور انہیں اسلامی ماحول میں تعلیم دلانے کی فکر کریں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی میدان سے بعض ایسے فتنے بھی جنم لے رہے ہیں جو نئی نسل کے دینی تشخص کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے مسلمانوں کو محض تعلیمی کامیابی پر اکتفا کرنے کے بجائے اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور موجودہ اسکولوں کے نظام کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں آگے بڑھانے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے والدین کو خصوصاً اپنی بچیوں کو اسلامی ماحول فراہم کرنے والے اداروں میں تعلیم دلانے اور ان کے ایمان و اسلامی شناخت کی حفاظت پر توجہ دینے کی بات کہی۔
تقریب میں گل بہار بنت فضل الرحمن کروے (88.4 فیصد)، عطوفہ محمد حنیف باپوجی (86.72 فیصد)، زیدان ابن الیاس خان شمسی (92.16 فیصد)، مزنہ بنت سکندر خان سرلگی (93.12 فیصد)، محمد براق ابن خواجہ شیخ (96.8 فیصد)، مدیحہ انجم بنت یوسف صاحب سرلگی (98.16 فیصد) اور انجینیئرنگ کے شعبے میں اقصیٰ انجم بنت تبریز خان سرلگی (95.16 فیصد، الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن انجینیئرنگ) کو اعزازات سے نوازا گیا۔
تقریب میں حفظِ قرآن مکمل کرنے والے حافظ امان پوٹلی، حافظ عمر بن محمد رفیق (جدہ)، حافظ بلال بن خواجہ پوٹلی، حافظ عبداللہ بن نورالدین گیما، حافظ عصیم بن عاصم قاضی اور حافظ محمد براق بن خواجہ شیخ کو بھی خصوصی انعامات دیئے گیے۔ تقریب کا اختتام دعا کے ساتھ ہوا۔




