شاملی تبدیلی مذہب معاملہ :مرضی سے قبول اسلام کی گواہی کے باوجود گرفتاریوں کا سلسلہ جاری

اتر پردیش کے ضلع شاملی میں مبینہ طور پر غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب کے ایک ہائی پروفائل معاملے میں پولیس نے اپنی کارروائی تیز کرتے ہوئے تیسری اہم گرفتاری عمل میں لائی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اس کیس کی جاری تفتیش کے دوران توفیق عرف بھولا نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے، جس کے قبضے سے ایک ‘نکاح نامہ’ بھی برآمد ہوا ہے۔ شاملی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ این پی سنگھ نے اس گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس معاملے کی گہرائی سے جانچ کر رہی ہے اور دیگر نامزد ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

یہ پورا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب چھ جون کو دیوراج ملک نامی شخص نے پولیس میں ایک تحریری شکایت درج کرائی۔ شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ ان کے تیس سالہ بیٹے آیوش ملک کو چند سال قبل چاندنی قریشی نامی خاتون سے شادی کا جھانسا دے کر مبینہ طور پر اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق آیوش کو مبینہ طور پر دہلی لے جایا گیا، جہاں جعلی دستاویزات تیار کر کے اس کا نکاح پڑھایا گیا۔ اس شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے سات جون کو چاندنی قریشی اور ان کے والد اسلام قریشی کو گرفتار کر لیا تھا، جس کے بعد اب توفیق کی شکل میں یہ تیسری گرفتاری ہوئی ہے۔ اس کیس میں ایک مذہبی رہنما (مولوی) سمیت کل نو افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن پر بھتہ خوری، دھوکہ دہی، جعل سازی، مجرمانہ دھمکیوں اور اتر پردیش کے غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب کے انسداد کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

دوسری جانب، اس پورے معاملے میں اس وقت ایک انتہائی اہم اور نیا موڑ آ گیا جب خود مبینہ متاثرہ نوجوان آیوش ملک نے، جو اب اپنا نام محمد علی بتاتے ہیں، والد کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ شاملی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد علی نے واضح الفاظ میں کہا کہ انہوں نے چند سال قبل کسی بھی دباؤ یا زبردستی کے بغیر، مکمل طور پر اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا تھا اور اب ان کا ہندو مذہب میں واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے والدین سے الگ رہ رہے ہیں اور ان پر شدید سماجی دباؤ بنایا جا رہا ہے۔ نوجوان کا دعویٰ ہے کہ ان کے والد نے کسی بیرونی دباؤ اور اثر و رسوخ میں آ کر یہ جھوٹی شکایت درج کرائی ہے، جبکہ ان کی شادی یا قبولِ اسلام میں کوئی زبردستی شامل نہیں تھی۔

نوجوان کے اس بیان کے باوجود علاقے میں صورتحال کشیدہ بنی ہوئی ہے اور مختلف دائیں بازو کی ہندو تنظیموں نے معاملے کو لے کر سخت رخ اختیار کر لیا ہے۔ ان تنظیموں نے پولیس انتظامیہ سے نامزد ملزمان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور انتباہ دیا ہے کہ اگر اس معاملے میں فوری اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔ پولیس نے برآمد ہونے والے نکاح نامے کے مندرجات یا اس کیس میں گرفتار تازہ ترین ملزم توفیق کے مخصوص کردار کے بارے میں مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں، تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق غیر جانبدارانہ تفتیش جاری ہے اور کسی کو بھی امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

شیئر کریں۔