ایک روشن چراغ کی خاموش جدائی

از: ریاض الرحمن اکرمی ندوی

محترمہ بی بی عائشہ بنت عبدالرزاق خلیفہ  8/ ذی قعدہ 1447ھ مطابق  26 /اپریل 2026ء بروز اتوار مختصر علالت کے بعد اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے انتقال کی خبر نے اہلِ خانہ اور متعلقین کو گہرے رنج و غم میں مبتلا کر دیا، بی بی عائشہ  خلیفہ جو محبت سے “شابلی کوچی ماں” کے نام سے جانی جاتی تھیں، ایک ایسی باوقار اور باکردار خاتون تھیں جن کی زندگی خاندانی عظمت اور اخلاقی وقار کا حسین امتزاج تھی۔ آپ مرحوم محی الدین سائب جوباپو (عثمان ماسٹر جوباپو کے بھائی) کی زوجہ محترمہ تھی، جو خود ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے، اور اس رشتے نے دو معزز خانوادوں کو ایک خوبصورت بندھن میں پرو دیا۔ آپ کے فرزندان، میں جناب حافظ سعود اور جناب عبداللطیف جوباپو ہیں، خاندانی اعتبار سے بھی آپ ایک نہایت مرکزی اور قابلِ احترام شخصیت تھیں۔ آپ دارالعلوم ندوة العلماء لکھنؤ کے کارگزار مہتمم مولانا عبدالعزیز خلیفہ ندوی کی ہمشیرہ تھیں، جبکہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے استاد مولانا سمعان خلیفہ ندوی اور دارالتعلیم والتربیہ مخدوم کالونی کے استاد مولانا عثمان غنی خلیفہ ندوی اور حافظ مولانا عبدالرزاق  ابن عبدالوھاب خلیفہ کی پھوپھی اور مولانا عبدالرحیم ندوی استاد مکتب جامعہ اسلامیہ چوک بازار کی ساس تھیں، اس کے ساتھ ساتھ مولوی مفیض خلیفہ ُکی نانی ہونے کا اعزاز بھی آپ کو حاصل تھا۔

مختصر یہ کہ “شابولی کوچی ماں” نہ صرف ایک گھر کی سربراہ تھیں بلکہ ایک پورے خاندان کی روح تھیں جس کی خوشبو آج بھی ان کے عزیزوں کے کردار، علم اور اخلاق میں محسوس کی جا سکتی ہیں ۔

آپ کی شخصیت خدمت، محبت اور اخلاص کا ایک حسین امتزاج تھی۔ آپ نے طویل عرصے تک سلطانی محلہ شابولی ہاؤس میں بچوں اور بچیوں کو قرآنِ مجید کی تعلیم دی، جہاں بے شمار طلبہ و طالبات نے آپ کے زیرِ نگرانی قرآنِ پاک مکمل کیا۔آپ کو تجوید کے اصولوں اور مخارج کی درست ادائی پر  عبور حاصل تھا، آپ ہر حرف کو اس کے حق کے ساتھ ادا کروانے میں خاص مہارت رکھتی تھیں، آپ نے کالی کٹ میں اس کی تعلیم‌ حاصل کی تھی۔

 آپ کو نوائطی اور اردو کا ایک ذخیرہ ازبر تھا اور محفلِ جلوہ کے موقع پر آپ اپنے منفرد اور دلنشین انداز میں دلہن کے سامنے بیٹھ کر اسے پڑھا کرتی تھیں، جس سے محفل کا سماں اور بھی پرنور ہو جاتا تھا۔

اسی طرح جب بھی آپ کے عزیز و اقارب میں کوئی حجِ بیت اللہ کے مبارک سفر پر روانہ ہوتا، تو آپ نہایت خوبصورت انداز میں کلام سنا کر اس موقع کو یادگار بنا دیتی تھیں۔ خدمتِ خلق کا جذبہ آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ خاندان کی ہر خوشی، خصوصاً شادی بیاہ کی تقریبات میں آپ صفِ اول میں نظر آتیں اور اپنی موجودگی سے محفل کو چار چاند لگا دیتی تھیں۔

شادی بیاہ میں بھی آپ کو خاص طور پر مدعو کیا جاتا، عزیز واقارب کودعوت نامہ دینا، بھاڑے (تحفے) دینا اوراس کا انتظام کرنا اور اسی طرح جہاں دلہن کی مہندی کا انتظام، دلہن کو مہندی لگاتے وقت منظوم انداز میں ازدواجی زندگی کی اہمیت، شوہر بیوی کے حقوق اور گھریلو معاملات کے بارے میں بہترین انداز میں رہنمائی کرنے کا ایک الگ انداز ہوتا تھا۔

آپ کی منظوم نصیحتوں کا یہ انداز نئی زندگی کا آغاز کرنے والی دلہنوں کے لیے اور ان کی ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانے میں اہم کردار ادا کرتا۔

شیئر کریں۔