حج کے بعد کی زندگی یعنی تجدیدِ عہدِ بندگی

حج بیت اللہ کوئی رسمی عبادت یا مقدس مقامات کی زیارت کا نام نہیں، بلکہ یہ بندۂ مومن کی زندگی میں ایک ہمہ گیر روحانی انقلاب کا آغاز ہے، یہ وہ عظیم تربیتی عمل ہے جس میں انسان اپنے رب کے حضور تمام ظاہری امتیازات، دنیوی حیثیتوں اور نفسانی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر سراپا عجز و انکسار بن جاتا ہے، حج ایک ایسی روحانی ورکشاپ ہے جو انسان کو نئی زندگی عطا کرتی ہے اور اسے گناہوں سے توبہ کرکے بندگی کے ایک نئے سفر پر گامزن کرتی ہے، جب ایک حاجی مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر قدم رکھتا ہے تو درحقیقت وہ اپنی سابقہ کوتاہیوں اور لغزشوں سے نجات کا عہد کرتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ حج کے مقبول ہونے کی علامت کیا ہے؟ اس بارے میں امام حسن بصریؒ کا قول نہایت بصیرت افروز ہے کہ حجِ مبرور کی نشانی یہ ہے کہ انسان دنیا کی محبت میں کمی اور آخرت کی فکر میں اضافہ محسوس کرے، اگر حج کے بعد نمازوں کا ذوق بڑھ جائے، دل میں تقویٰ پیدا ہو، غریبوں سے ہمدردی اور بندگانِ خدا کی خدمت کا جذبہ بیدار ہو جائے تو یہ قبولیت کی امید افزا علامت ہے، لیکن اگر انسان میں تکبر پیدا ہو جائے اور وہ محض ’’حاجی‘‘ کے لقب پر فخر کرنے لگے تو یہ ایک خطرناک بیماری ہے، حج کے بعد ہر حاجی کو اپنی زندگی کا نیا لائحۂ عمل ترتیب دینا چاہیے، عبادات کے میدان میں نمازوں کی پابندی، تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی کو معمول بنائے، اخلاقیات کے شعبے میں جھوٹ، غیبت، چغلی اور بدزبانی سے مکمل اجتناب کرے، معاملات میں حلال روزی، امانت داری اور دیانت کو اختیار کرے اور ہر قسم کے دھوکے اور ظلم و زیادتی سے بچے، اسی طرح معاشرتی زندگی میں والدین، اہلِ خانہ، پڑوسیوں اور دیگر لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی فکر کرے اور محبت، رواداری اور حسنِ سلوک کو اپنا شعار بنائے، صالحین کی صحبت اختیار کرنا اور بری محفلوں سے دور رہنا بھی حج کے اثرات کو باقی رکھنے کے لیے ضروری ہے، انسان اپنے ماحول سے متاثر ہوتا ہے، اس لیے نیک لوگوں کی رفاقت اسے استقامت عطا کرتی ہے اور برائیوں سے بچنے میں مدد دیتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ حج ایک ابدی بیداری کا نام ہے، میدانِ عرفات کی دعائیں، کعبۃ اللہ کا طواف، صفا و مروہ کی سعی اور مدینہ منورہ کی مقدس فضائیں محض یادگار لمحات نہیں بلکہ ایسی امانتیں ہیں جن کا حق پوری زندگی ادا کرنا ہوتا ہے، حج کے بعد حاجی معاشرے میں اسلام کا ایک چلتا پھرتا سفیر بن جاتا ہے، لوگ اس کے کردار اور اخلاق کو دیکھ کر دین کی خوبصورتی کا اندازہ لگاتے ہیں، اس لیے ہر حاجی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی باقی زندگی کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔
 اللہ تعالیٰ تمام حجاجِ کرام کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور ہمیں بھی ایسی زندگی نصیب فرمائے جو حج کے حقیقی پیغام، یعنی تجدیدِ عہدِ بندگی کا عملی نمونہ بن سکے۔ آمین۔
(مضمون نگار صدر مفتی دارالافتاء والارشاد جامع مسجد بمبئی اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر ہیں)

شیئر کریں۔