مفتی اشفاق قاضی
حج کے بعد اس کی زندگی ایک صاف اور سفید کورے کاغذ کی مانند ہونی چاہیے جس پر تقویٰ، اطاعتِ الٰہی، حسنِ اخلاق اور خدمتِ خلق کی نئی داستان لکھی جائے، اگر اس عظیم عبادت کے بعد بھی انسان کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی پیدا نہ ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس نے حج کی ظاہری مشقت تو اٹھائی، مگر اس کی روح اور پیغام کو پوری طرح نہیں اپنایا، حج کے دوران حاجی کی زبان پر مسلسل ’’لبیک اللہم لبیک‘‘ کا ورد جاری رہتا ہے، یہ دراصل بندے کی جانب سے اپنے رب کے حضور وفاداری اور اطاعت کا اعلان ہے، میدانِ عرفات میں بہنے والے آنسو، گناہوں پر ندامت اور مغفرت کی دعائیں، محض وقتی جذبات سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں، بلکہ ایک نئے عہد کی بنیاد ہوتی ہیں، عرفات کا میدان انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتا ہے اور اسے زندگی کا رخ بدلنے کی دعوت دیتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا عرفات کی وہ کیفیت وطن واپسی کے بعد بھی باقی رہتی ہے؟ ایک سچے حاجی کی پہچان یہی ہے کہ اس کے دل کی نرمی، خشیتِ الٰہی اور احساسِ جواب دہی حج کے بعد بھی برقرار رہے، بیت اللہ کے طواف کے دوران اس نے جو دعائیں کیں، ملتزم سے لپٹ کر جو التجائیں پیش کیں اور کعبہ کے سامنے جو عہد وپیمان کیے، وہ سب اس بات کا اعلان تھے کہ اب اس کی زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع ہوگی، اگر کوئی شخص واپسی کے فوراً بعد انہی گناہوں اورغفلتوں کی طرف لوٹ جائے جن سے نجات کے لیے اس نے دعا کی تھی، تو یہ بہت بڑی محرومی ہے، سفرِ حج کا ایک نہایت ایمان افروز مرحلہ مدینہ منورہ کی حاضری بھی ہے، روضۂ اقدس کے سامنے حاضری اور مسجدِ نبوی ﷺ میں عبادت کا شرف انسان کے دل کو عشقِ رسول ﷺ سے سرشار کر دیتا ہے، وہاں پہنچ کر حاجی اپنے آقا ﷺ کی سنتوں پر عمل کا عزم کرتا ہے، اس لیے حج کے بعد اس کی گفتگو، معاملات، اخلاق اور طرزِ زندگی میں سنتِ نبوی ﷺ کی جھلک نمایاں ہونی چاہیے، اگر مدینہ سے واپسی کے بعد بھی انسان کے کردار میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو اسے سنجیدگی سے اپنے آپ کا محاسبہ کرنا چاہیے، بعض اوقات حج ایک روحانی انقلاب کے بجائے محض ایک سماجی لقب بن کر رہ جاتا ہے، حالانکہ حج کا اصل مقصد انسان کے باطن اور ظاہر دونوں کی اصلاح ہے، اگر حج کے بعد بھی نمازوں میں سستی، جھوٹ، غیبت، چغلی، دھوکہ دہی، سود، بددیانتی اور حقوق العباد کی پامالی جاری رہے تو یہ غور و فکر کا مقام ہے کہ اس عظیم عبادت کا اثر کہاں ظاہر ہوا؟ حج انسان گناہوں سے پاک کرنے کے لیے کرتا ہے، لیکن بعض لوگ اپنی غفلت کے باعث دوبارہ انہی برائیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، ایسے شخص کی مثال اس فرد کی سی ہے جو نہایت قیمتی لباس پہن کر پھر کیچڑ میں جا بیٹھے، یہی وجہ ہے کہ احادیثِ نبویہ ﷺ میں حجِ مبرور کی غیر معمولی فضیلت بیان کی گئی ہے، حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس دوران کوئی فحش بات یا گناہ نہ کیا، وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے آج ہی اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو۔‘‘ ایک دوسری حدیث میں فرمایا گیا ’’حجِ مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔‘‘




