مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی
آج کے در میں نوع بنوع کی صحافت دنیا میں چھائی ہوئی ہے۔ ہر آدمی صحافت کی اسی قسم کو اپناتا ہے جو اس کے ذوق کے مطابق اوراس کے رجحانات وخیالات کی ترجمان ہو، ادب و معاشرت اور سیاست و علم کی تشنگی کو اس سے دور کرتا ہے ، آج جب کسی کے سامنے صحافت اپنا نقاب اٹھاتی ہے تو اس میں رنگوں کی شوخی ہیجان انگریز تصاویر ، حالات و واقعات کی خوبصورت فنکاری اور خوشنما طباعت کے ساتھ خبریں رقص کرتی نظر آتی ہیں، صفحۂ قرطاس جاذب نظر اور چمک دار نیز اندازِ بیان سہل اور آسان ہوتا ہے ، اسی وجہ سے وہ لوگوں میں دُرّ نایاب کی حیثیت حاصل کرتی ہے ، شائقین اس کے اسلوب کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس نوع کی صحافت سے لطف اندوز ہونے کی امنگ ان کی ہرقیمت پر اس کو اپنانے پر مجبور کرتی ہے اور وہ بے صبری سے اس کے منظرِ عام پر آنے کے منتظر رہتے ہیں۔
رہی بامقصد صحافت جس سے انسان ہر جگہ تشنہ لب ہے ، وہ اس معیار کی حامل نہیں ، نہ اس میں وہ رنگینی ہے نہ خوبصورتی ، اور نہ رنگین تصاویر اور نہ وہ شیفتگی اور نہ جمال ہے جس کے لیے وہ قارئین کو بے حقیقت مناظر میں مشغول کرتی ہو اور نہ ان کے ذہن و فکر کو ملوث کرکے ظاہری رنگ و روغن پر ان کی تمام تر توجہ مرکوز کردیتی ہو اور ان کی صلاحیتیوں کو غیر ضروری میدانوں میں ضائع کرنا اس کا مقصد اولین ہوتا ہو۔
یہ بامقصد صحافت ، کلمہ اور قلم کی امانت سے صرف نظر نہیں کرتی ہے جن کا انسان سازی ، سیرت اور مستقبل کی تعمیر میں ایک ناقبلِ فراموش رول ہے ، اس کردار سے آج کی صحافت بے بہرہ ہے بلکہ تجارتی رجحان اس پر تمام رجحانات سے زیادہ غالب ہے ، آج دنیا کے بڑے بڑے تجارتی گروپ صحافت کو اپناتے اور تجارت و سیاست کے بے حقیقت مقاصد کے لیے قلموں کو خریدتے ہیں ، آج جتنے روزناموں ، ہفتہ وار رسائل اور ماہانہ مجلاّت کو عالمی شہرت ، اعلیٰ معیاراور پوری توجہ حاصل ہے وہ سب تجارتی کمپنوں ، فرموں یا تاجروں کی زیر ملکیت ہیں ، وہ ان کی زبان ہیں اور زندگی کے تمام مراحل میں ان کے نقطہائے نظر اور سیاست کی ترجمانی کرتے ہیں، اس سے ان کو بڑے بڑے مادی منافع حاصل ہوتے ہیں ، اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی صاحبِ ثروت تاجر اپنے مال کا ایک بڑا حصہ کپڑے یا اشیاء خوردنی کی تجارت میں لگادے۔ آج ہمارے نظروں کے سامنے اخبارات اور میگزینوں کی سودے بازی ہوتی ہے اور وہ اپنے مقاصد میں خریداوں کے اشاروں کے پابند ہیں، کچھ میگزینیں اور جرائد ایسے ہیں جن کے خریداروں کا رجحان اگر بدل گیا تو وہ بھی ان کے مقاصد کی ترجمانی کے لیے جھک جاتے ہیں۔
ہر آدمی جانتا ہے کہ بامقصد صحافت بے توجہی اور زبوں حالی کے حالات سے دوچار ہے اور سخت مشقت کے زیرِ سایہ دم لے رہی ہے وہ ہر وقت اس کے وجود کو نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ یہ سب نتیجہ اس کا ہے کہ آج عام طور پر طبیعتوں کا رحجان صحافتِ حقیقی کے بجائے تجارتی انداز کی صحافت کی طرف ہوگیا ہے، بالفاظِ دیگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ صحافت ، مزاج ، دلچسپی اور تفریح طبع کا سامان بن گئی ہے جس میں قارئین کو کہانی ، سنسنی خیز حالات ، جرائم کی دلچسپ داستانیں ، سحر انگیز اسلوب ، دلفریب پیرایۂ زبان و بیان اور رنگین منظر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ اس صحافت کو صرف مقامی کھپت اور مالِ تجارت کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو صورت حال پر توجہ مرکوز کریں اور اس بگاڑ کی اصلاح کی کوشش کریں جو بامقصد صحافت کے حلقوں میں بھی درانداز ہوتا جارہا ہے اور اس کا ایسا بہترین بدل پیش کریں کہ وہ بگڑے ہوئے ذوق کو صحیح سمت عطا کرسکے اور ہمیں اصل مزاج کی طرف دوبارہ واپس لاسکے۔
یہ معمولی سی سادہ اور بے رنگی صحافت جس کو ہم اپنی پوری کوششوں کے ساتھ اس عالم میں پیش کررہے ہیں اور وہ مختلف قسم کے افکار و نظریات اور دنیا میں پائے جانے والے بہت سے متناقص ، رجحانات کی تفصیلات پر بھی مشتمل ہوتی ہے۔ گرچہ ایک بڑے خلا کو پر تو نہیں کرسکتی لیکن اپنے وسائل کی قلت اور کار گزاروں کی دائرہ کی تنگی کے باوجود ذمہ داروں کے اخلاص اور کلمہ کی امانت کے ایفاء کی راہوں میں سچی قربانیوں سے محروم نہیں ہے۔ اگرچہ ہماری یہ بامقصد صحافت بھی زمانہ کی ترقیوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکر چلنے کی کوشش کررہی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں کہ وہ اس کو تقویت عطا فرمائیں ، عروج مقدر فرمائیں ، اس کے ذمہ داروں کے عمل میں سنجیدگی اور صحافتی ذمہ داریوں کے عمل میں سنجیدگی اور صافتی ذمہ داریوں کے احسا س کے ساتھ مصروف رہنے کی توفیق عطا فرمائیں۔، تاکہ وہ بامقصد اور اصول پسند صحافت کے ایک تابناک منارہ کی حیثیت سے دنیا میں اپنا مقام پیدا کرے۔
صحافتِ اسلامی کے حاملین کا یہ اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ اس میدان میں بھرپور جدید ذرائع کا استعمال کرکے اس صحافت کو فروغ دیں ، عام قارئین کے دلوں کو اس کی طرف راغب کریں ، ساتھ ہی ان کی اخلاقی وفکری رہنمائی کریں اور ان کو اس اصل صورتِ حال سے روشناس کرائیں جس سے مسلمان مختلف مقاصد پر نبردآزما ہیں۔ خاص طور پر سے ان دل سوز حالات اور انسانی مسائل کی کثرت کی طرف توجہ مبذول کرائیں جن کا مسلمانوں کو دنیا کے مختلف علاقوں میں اس وقت شدید سے سامنا ہے اور وہ اس کے صحیح علاج کی واقفیت کے لیے اپنی سانس روک کر بیٹھے ہیں۔
بشکریہ تعمیر حیات 10-25 فروری 2025




