تحریر : عتیق الرحمن ڈانگی ندوی
(رفیق فکروخبربھٹکل)
ضمیر کو کیا ہوگیا تھا سمجھ نہیں آرہا تھا ، وہ ہمیشہ سوچوں میں گم سا رہتا اور چلتے چلتے اچانک کسی جگہ رک جاتا اور بہت دیر اسی جگہ کھڑا رہتا ، کئی دنوں سے وہ چائے کی محفل میں آیا تھا، نہ کسی کے فون کا جواب دیتا تھا ، اس کی ملاقات کا کئی مرتبہ پروگرام بنا لیکن اس کی حالیہ طبیعت کی وجہ سے کسی کی بھی ہمت نہیں ہورہی تھی، پرسوں اس کے بھائی سے ملاقات ہوئی جس کے بعد براہِ راست ضمیر سے ملاقات کا پروگرام بنایا۔ ہمت کرکے فون ملایا ، تو دوسری طرف سے کچھ بے ترتیب آوازیں سنائیں دیں جس کے بعد رابطہ منقطع ہوگیا ، ایسا محسوس ہوا کہ شاید وہ کسی سے بات کرنا نہیں چاہتا ، میں نے دوستوں سے رابطہ کرکے صورتحال سے آگاہ کیا ۔ عشاء بعد ہم سب ایک چائے کی ٹپری پر جمع ہونے پرمتفق ہوئے۔
ضمیر کبھی ہمارے محفلوں کی جان ہوا کرتا تھا ، اس کے بغیر محفل ادھوری رہ جاتی تھی ، اس کی کئی ایک خصوصیات میں یہ بھی تھیں کہ وہ ہر طبیعت کے شخص کے ساتھ ایڈجسٹ ہوجایا کرتا تھا ، وہ جب بولتا تھا تو سب خاموش ہوجاتے تھے اور بات قہقہوں کی گونچ پر ختم ہوجاتی تھی ، دوسرے دوستوں کے مقابلہ میں وہ ایک دوسرے کے کام آنے میں پیش پیش رہتا تھا، وہ حالات کو بھانپ کر بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ چائے کی ٹپری پر مختلف دوست اس کی خصوصیات بیان کرہے تھے۔ تو نے معافی چاہتے ہوئے ضیاء کی بات کاٹ دی۔ ہم سب اس کی خصوصیات سے واقف ہیں لیکن ابھی ہمیں اس بات پر غور کرنا ہے کہ چند دنوں میں ایسا کیا ہوگیا جس سے اس نے دوستوں کی محفل کے ساتھ ساتھ گھر کے لوگوں کے ساتھ بھی اٹھنا بیٹھنا چھوڑدیا۔ الگ تھلگ رہنا اسے پسند آنے لگا ، وہ مسجد میں بھی جماعت کے ساتھ شریک ہوکر سیدھے گھر کا رخ کرنے لگا تھا ، مسجد کے احاطہ میں بھی اسے کسی سے بات کرنے میں دلچسپی نہیں تھی ، ہمیں فوری طور پر اس سے مل کر بات کرنی چاہیے اور اس کی وجوہات کا پتہ لگانا چاہیے۔ خدا نہ کرے اگر وہ ڈپریشن کا شکار ہوگیا تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔
رات کا پہلا حصہ گزچکا تھا ، ضمیر سے ملاقات کی کوئی سبیل نہیں نکل رہی تھی ، وجوہات کے پتہ لگانے کے لیے طبیعت بے چین ہورہی تھی ، صرف وجوہات کا پتہ نہیں بلکہ معاملہ کا حل نکالنا ہمارا اصل مقصد تھا۔
اگلے روز جب اس کے بھائی سے ملاقات ہوئی تو کئی ایسی باتیں سامنے آئیں جنہوں نے ہماری تشویش میں مزید اضافہ کردیا۔
’’چند دنوں سے وہ تنہائی میں رہنے لگا ہے ۔ اپنے کالج کے ساتھیوں سے بھی بولنا چھوڑ دیا ہے، طبیعت میں چڑچڑا پن کچھ زیادہ ہی ہے ، کچھ پوچھنے پر خاموشی سے آگے بڑھ جاتا ہے جیسے کسی نے اس سے کچھ پوچھا ہی نہ ہو‘‘۔ یہ کہتے کہتے بھائی اچانک رک گیا اور قدرے توقّف کے بعد کہا کہ ضمیرکو آن لائن گیمزکی لت لگ گئی ہے، بھائی کی آواز بھر آئی اورکمرے میں خاموشی چھاگئی۔
آگے بڑھتے بڑھتے ہم ایک مقام پر رک گئے اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر گفتگو شروع کی۔ سب کی رائے یہی تھی کہ ضمیر سے براہِ راست بات کرنے سے پہلے اس کے والد کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ ممکن ہے کہ وہ کچھ ایسی باتوں سے واقف ہوں جو ابھی تک ہماری نظروں سے اوجھل تھیں۔ یہ بھی اندیشہ تھا کہ جلد بازی میں اٹھایا گیا کوئی قدم فائدے کے بجائے نقصان کا سبب نہ بن جائے۔ چنانچہ طے پایا کہ علی الصبح ان سے ملاقات کی جائے، اور اسی وقت فون کے ذریعے انہیں اس کی اطلاع بھی دے دی گئی۔
والد سے ملاقات کے دوران کئی اہم باتیں منکشف ہوئیں ، والد بھی ضمیر کی اس بدلتی حالت پر پریشان تھے انہیں یہ بات پہلے ہی سے معلوم تھی کہ آن لائن گیمز کی لت کی وجہ سے اس نے کئی روپے اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کر لیے تھے۔ اپنے کالج کے دوستوں سے بھی کچھ رقم ادھار لے رکھی تھی۔ وہ ضمیر سے ملاقات کے لیے کسی ایسے وقت کی تلاش میں تھے جہاں وہ اپنی باتیں کھل کر بیان کر سکے، اپنی زندگی میں آنے والی تبدیلی پر خود غور کرنے پر مجبور ہوجائے اور ضمیر کا ضمیر خود اسے جھنجھوڑدے۔ والد کی بھی ہم سے ملاقات کی خواہش تھی لیکن گھر کی بات باہر آنے کے خوف نے انہیں کئی مرتبہ اس ارادہ کو ٹالنے پر مجبور کردیا۔ خیر ہم نے بات مزید آگے بڑھاتے ہوئے اسی وقت ضمیر سے ملاقات کا فیصلہ کرلیا۔
وہ پہلے پہل خاموش رہا ، والد اور ہمارے ساتھیوں نے اس کے اس فعل پر نکیر کے کرنے کے بجائے اس کی ہمت باندھی اورآن لائن گیمز پر بات شروع کرنے کے بجائے ضمیرکی موجودہ خوبیوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا۔ وہ چپ چاپ ایک ہی جگہ نظریں جمائے ہوئے تھا ، کچھ منٹوں بعد اس کے چہرے پرپھیلی مسکراہٹ نے ہمیں قدرے مطمئن کیا۔
میری دوستی کالج میں وکیل نامی نوجوان سے ہوئی جسے موبائل کے ہر فیچر کا پتہ تھا ، اسی نے دوستی کے دوران پہلی مرتبہ آن لائن گیمز سے متعارف کروایا۔ پھر کیا تھا کہ مجھے مزہ آنے لگا ، میں رات دن اسی میں رہنے لگا ، میری جمع پونچی جب ختم ہوگئی تو میں نے والد صاحب کے اکاؤنٹ سے کچھ پیسے ٹرانفسرکرلیے۔ جب اس سے بھی بات نہیں بنی تو دوستوں سے قرضہ مانگنے لگا۔ اپنے کیے پر نادم ہونے کے بجائے نقصان پورا کرنے کے نت نئے طریقے سوچنے لگا۔ اسی سوچ میں تنہائی کا شکار ہوگیا ، مجھے کسی سے بات کرنا اچھا نہیں لگتا تھا ، میں نے نہ صرف محلے کے نوجوانوں بلکہ گھر والوں سے بھی بات چیت کم کردی۔۔ بالآخر میں خود اپنی بدلتی ہوئی حالت پر حیران ہونے لگا، لیکن گیمز کسی بھی طرح میرا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہ تھے ، میں نے بہت کوشش کی ، دوستوں سے ملنا چاہا لیکن اس بات سے خوف محسوس ہوتا تھا کہ میری چوری اگر پکڑی گئی تو میں کہیں منہ دکھانے لائق نہیں رہوں گا اور یہی سوچ مجھے کاٹ کھانے لگی۔ یہ کہتے کہتے ضمیر خاموش ہوگیا۔
کمرے میں چند لمحوں کے لیے سناٹا چھا گیا۔ اس کی جھکی ہوئی نظریں، لرزتی ہوئی آواز اور چہرے پر پھیلی ندامت بتا رہی تھی کہ اسے اپنی غلطی کا احساس ہوچکا ہے۔ اس کے نہ چاہتے ہوئے بھی ہم نے بہت سی چیزیں اس کے چہرے سے پڑھ لیں۔اس کے اندر کچھ بتانے کی ہمت نہیں تھی اور نہ اسے مزید اس موضوع پر بات کرنے کی خواہش تھی۔ خاموشی مزید گہری ہوجائے، اس سے پہلے ہی ہم گھر کی طرف چل دیے۔ راستے بھر ضمیر کی باتیں ہمارے ذہنوں میں گردش کرتی رہیں۔ تب احساس ہوا کہ یہ صرف ضمیر کی کہانی نہیں، ہمارے معاشرے کے ان بے شمار نوجوانوں کی داستان ہے جو خاموشی سے کسی اندھیرے میں اتر رہے ہیں اور کسی دستک کے منتظر ہیں۔




