ڈاکٹر سراج الدین ندوی
چھ جنوری کی صبح جب میں نے واٹس ایپ کھولا تو ایک افسوس ناک خبر نے دل کو دہلا دیا۔ ہمارے دیرینہ دوست، معتبر صحافی اور مخلص رفیقِ کار جناب پرواز رحمانی صاحب گزشتہ رات ساڑھے نو بجے الشفا ہاسپٹل دہلی میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
میری اُن سے چالیس پینتالیس برس پر محیط رفاقت رہی۔ جب بھی ملاقات ہوتی، وہ نہایت عاجزی، خلوص اور انکساری کے ساتھ پیش آتے۔ موجودہ حالات، صحافت کے مسائل اور سماجی ذمہ داریوں پر سنجیدہ گفتگو کرتے اور تبادلۂ خیال کو ہمیشہ بامعنی رکھتے۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ دہلی میں اجتماعِ ارکان کے موقع پر اہلِ علم و قلم کی ایک نشست منعقد ہوئی تھی، جو اسٹیج ہی پر اعجاز اسلم صاحب کی نگرانی میں ہوئی۔ اسی نشست میں پرواز رحمانی صاحب نے خاص طور پر میرا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ “سراج صاحب کو بھی بلایا جائے، وہ بچوں کے لیے ادب تخلیق کر رہے ہیں اوران کا رسالہ اچھا ساتھی بچوں کی تربیت میں ایک مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔”
مرحوم کافی عرصے سے علیل تھے۔ برین ہیمرج اور فالج کی تکلیف میں مبتلا تھے اور آئی سی یو میں زیرِ علاج تھے۔ میں اس وقت بیرونِ ملک ہوں، اس لیے ان کے آخری دیدار اور نمازِ جنازہ میں شرکت سے محروم رہ گیا، جو میرے لیے ایک مستقل حسرت بن گئی ہے۔
اردو کی اخلاقی اور اصولی صحافت کا ایک روشن چراغ آج بجھ گیا، مگر ان کی صحافتی خدمات ایسی ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔ آج سہ روزہ دعوت اپنے چیف ایڈیٹر سے محروم ہو گیا۔
میں جب سے دعوت پڑھتا آیا ہوں، اس کے مدیران کی ایک تابناک روایت سامنے رہی ہے۔ ابتدا میں مولانا محمد مسلم صاحب اس کے ایڈیٹر تھے، جو ہندوستان کے نامور اور منجھے ہوئے صحافیوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے مولانا سلمان ندوی صاحب کی صحافتی تربیت کی۔ مولانا سلمان ندوی صاحب کی وفات کے بعد یہ اہم سوال سامنے آیا کہ دعوت کی فکری اور نظریاتی ادارت کی ذمہ داری کس کے سپرد کی جائے۔ بالآخر باہمی مشورے سے یہ ذمہ داری پرواز رحمانی صاحب کے حوالے کی گئی، جو خود بھی مولانا سلمان ندوی صاحب کے تربیت یافتہ تھے۔پرواز رحمانی صاحب نے تادمِ آخر نہایت خوش اسلوبی، دیانت داری اور استقامت کے ساتھ ادارت کے فرائض انجام دیے۔ ان کا مستقل کالم “خبر و نظر” نہایت دلچسپی اور شوق سے پڑھا جاتا تھا۔ میرا بھی معمول تھا کہ دعوت ہاتھ میں آتے ہی سب سے پہلے “خبر و نظر” ہی پڑھتا۔
مرحوم کی صحافتی خدمات نہ صرف ادارۂ دعوت بلکہ پوری صحافتی دنیا کے لیے قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے صحافت کے موضوع پر متعدد اہم کتابیں تصنیف کیں جو اہلِ علم و قلم اور صحافت سے وابستہ افراد کے لیے فکری رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ وہ صرف ایک اخبار کے ایڈیٹر نہیں تھے بلکہ صحافت کے ضمیر کی آواز تھے۔ ان کا قلم سچ کا امین اور ان کی فکر حق کی پاسبان تھی۔ بلاشبہ انہوں نے خبر کو شعور اور قلم کو وقار عطا کیا۔
وہ بغیر تحقیق کے خبر شائع کرنے کے سخت مخالف تھے۔ جب تک کسی خبر کی مکمل تصدیق نہ ہو جاتی، وہ اسے اپنے اخبار میں جگہ دینے کے قائل نہ تھے، جبکہ آج کے دور میں بغیر تحقیق خبریں شائع ہو جانا عام بات بن چکی ہے۔
ان کی تحریروں میں جذباتیت کے بجائے صداقت اور حقیقت پسندی نمایاں تھی۔ وہ قارئین کے جذبات سے زیادہ ان کی عقل و شعور کو مخاطب کرتے تھے۔ ان کی تحریریں سوقیانہ پن سے پاک، فکر کی گہرائی اور حقائق کی روشنی سے مزین ہوتی تھیں۔
جناب پرواز رحمانی کا ادارتی اسلوب اردو صحافت میں وقار، توازن اور فکری شائستگی کی ایک نمایاں مثال تھا۔ ان کے اداریے شور و غوغا یا جذباتی نعروں کے بجائے خاموش استدلال کے ذریعے قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے تھے۔
ان کے اسلوب کی سب سے بڑی خصوصیت اعتدال تھی۔ وہ نہ تو بے جا مصلحت کا شکار ہوتے اور نہ ہی تلخی و شدت پسندی کی طرف مائل۔ قومی، ملی یا بین الاقوامی معاملات ہوں، پرواز رحمانی مسئلے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے، پس منظر واضح کرتے اور پھر نہایت سلیقے سے اپنا نقطۂ نظر پیش کرتے۔ یہی سبب تھا کہ ان کے اداریے محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ دستاویزی حیثیت رکھتے تھے۔
زبان کے اعتبار سے ان کا ادارتی اسلوب سلیس، شستہ اور باوقار اردو کا نمونہ تھا۔ مشکل تراکیب، ثقیل الفاظ یا خطیبانہ جوش سے وہ شعوری طور پر گریز کرتے تھے۔ جملے متوازن، مفہوم واضح اور لہجہ شائستہ ہوتا۔ اختلاف بھی کرتے تو اخلاقی دائرے میں رہ کر، دلیل کے ساتھ، نہ کہ طنز و تمسخر کے ذریعے۔
فکری سطح پر ان کے اداریوں میں دینی شعور اور عصری آگہی کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ وہ مسائل کو صرف جذباتی یا مذہبی زاویے سے نہیں دیکھتے تھے بلکہ سماجی، سیاسی اور انسانی تناظر میں بھی پرکھتے تھے۔ اسی لیے ان کے اداریے عام قاری کے ساتھ ساتھ اہلِ علم کے لیے بھی توجہ کا مرکز بنتے تھے۔
ان کے اداریوں کاایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ پرواز رحمانی کے اداریے اصلاحی رنگ رکھتے تھے۔ وہ تنقید کے ساتھ رہنمائی بھی فراہم کرتے، مایوسی کے بجائے امید، اور انتشار کے بجائے فہم و بصیرت کی راہ دکھاتے تھے۔ ان کا ادارتی قلم ملت کو جوڑنے والا، سنوارنے والا اور سوچنے والا قلم تھا۔
مختصر یہ کہ پرواز رحمانی کا ادارتی اسلوب اردو صحافت میں سنجیدہ فکر، مہذب زبان اور ذمہ دار صحافت کی روشن روایت کی علامت ہے، جو آج کے شوریدہ صحافتی ماحول میں ایک قیمتی حوالہ بن چکا ہے
جن لوگوں نے انہیں قریب سے دیکھا، وہ انہیں ایک خلیق، باوقار اور خاموش طبع انسان کے طور پر یاد کرتے ہیں، جو شہرت سے زیادہ کام پر یقین رکھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی صحافتی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا کرے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات سے نوازے۔
آمین یا رب العالمین۔
