شعراء اپنی نعتوں میں عصرِ حاضر کے مسائل اجاگر کریں : ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی کااظہار خیال
بھٹکل (فکروخبرنیوز) نعتیہ شاعری اردو شاعری کے بڑے ذخیرے میں بڑی متبرک اور بابرکت شاعری ہے۔ ہمارے شعراء نے ہر دور میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور مدح خوانی کو اپنی سعادت سمجھ کر نعت گوئی کی ہے۔ بیسویں صدی کے شعرا ء نے نعتیہ شاعری کو عصر حاضر کے مسائل سے جوڑنے کا کام انجام دیا ہے ۔
محفل شعر و ادب کی طرف سے معہد امام حسن البناء شہید میں منعقد نعتیہ مجلس میں بھٹکل کے مولوی سمعان خلیفہ ندوی کی لکھی ہوئی دو طویل نعتوں پر مشتمل نعتیہ مجموعہ کلام "صہبائے محبت” کے اجرا کے موقع پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر عثمانی نے نوجوان شعراء اور نئے لکھنے والوں سے جدید موضوعات پر نعتیں کہنے اور اس میں روح عصر کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی صاحب نے بھٹکل کے موجودہ شعری اور ادبی منظرنامے پر گفتگو کرتے ہوئے یہاں کی نعتیہ شاعری کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس لحاظ سے بھٹکل ہندوستان بھر میں ممتاز ہے کہ اردو سے دور بسائی گئی ایک بستی میں اردو کی جو خدمت انجام دی جا رہی ہے وہ نہایت قابل قدر ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ کتاب کی رسم اجرا کے موقع پر ڈاکٹر عبدالحمید اطہر ندوی، ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی ، ڈاکٹر محمد حنیف شباب اور دیگر موجود تھے
اس سے قبل محفل شعر و ادب بھٹکل کے صدر سید احمد سالک ندوی نے محفل کے انعقاد کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ نئے لکھنے والوں کی فکری اور فنی رہنمائی کی خاطر اساتذہ فن کی نگرانی اور سرپرستی میں نوجوان شعراء کو جوڑنے کا کام کیا جا رہا ہے۔
صدارتی خطاب کرتے ہوئے جناب ڈاکٹر محمد حنیف شباب صاحب نے مولوی سمعان خلیفہ ندوی کو اس قیمتی اور وقیع مجموعے کی اشاعت پر مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اس نعتیہ مجلس میں جناب ڈاکٹر حنیف شباب صاحب، مولوی رائف کولا ندوی ، مولوی شقران غازیندوی، عبدالعلیم ابو ندوی، سید احمد سالک برماور ندوی سمیت اقبال سعیدی اور مولوی سمعان خلیفہ نے اپنی بہترین نعتیں پیش کر کے محفل کو نورانیت بخشی۔
اس پروگرام میں جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے عالیہ درجات کے طلبہ اور شہر بھٹکل کے مشہور نعت خواں حافظ رائد قاضی اور حافظ عبدالہادی نے خوبصورت نعتیں سامعین کے گوش گزار کیں۔
اجلاس کا آغاز عزیزی سلمان محتشم کی تلاوت سے ہوا اور یہ نشست رات پونےگیارہ بجے شقران غازی ندوی کے شکریہ کے ساتھ خاطر تواضع پر اختتام کو پہنچی۔




