بنگلورو:کرناٹک حکومت نے سرکاری دفاتر، میٹنگز اور تقریبات میں پیش کیے جانے والے کھانے پینے سے متعلق ایک جامع ایڈوائزری جاری کی ہے، جس کا مقصد صحت مند طرزِ زندگی اور متوازن غذائیت کو فروغ دینا ہے۔ 13 اپریل کو جاری کردہ اس حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری تقریبات میں پیش کیا جانے والا موجودہ کھانا اکثر صحت کے اصولوں کے مطابق نہیں ہوتا، اس لیے نئی ہدایات نافذ کی گئی ہیں۔
یہ ایڈوائزری عالمی ادارہ صحت کے اس تصور پر مبنی ہے جس میں جسمانی، ذہنی اور سماجی صحت کو یکساں اہمیت دی گئی ہے، اور غذائیت کو احتیاطی صحت کا بنیادی حصہ قرار دیا گیا ہے۔
حکومت نے دفتری میٹنگز اور مختصر نشستوں کے لیے باجرہ (ملیٹس) پر مبنی ہلکی اور صحت بخش غذاؤں کی سفارش کی ہے۔ ان میں تازہ پھل، سبزیوں کے سلاد، بغیر نمک کے بھنے ہوئے خشک میوہ جات اور بیج شامل ہیں۔ مشروبات میں سبز چائے اور کم چکنائی والی چھاچھ کو ترجیح دینے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ پینے کا پانی ابال کر شیشے یا اسٹیل کے برتنوں میں فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
بڑے سرکاری پروگراموں کے لیے ہدایت دی گئی ہے کہ کھانا کم چکنائی، کم تیل اور کم شکر کے ساتھ تیار کیا جائے۔ سفید چاول کے بجائے براؤن چاول استعمال کرنے اور باجرہ سے بنی اشیاء کو لازمی شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ غیر سبزی خور کھانوں میں صرف اچھی طرح پکا ہوا ہلکا (دبلا) گوشت پیش کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
ایڈوائزری میں کئی اشیاء پر مکمل یا جزوی پابندی عائد کی گئی ہے، جن میں تلی ہوئی نمکین، زیادہ مسالے دار کھانے، کاربونیٹیڈ مشروبات، زیادہ شکر والے جوس، صنعتی طور پر تیار شدہ غذائیں، مائکروویو میں گرم کیا گیا کھانا، الکحل، دودھ والی چائے اور کافی، نیز پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی شامل ہیں۔
حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کھانے کی تیاری اور پیشکش کے دوران صفائی اور حفظانِ صحت کے اصولوں کا سختی سے خیال رکھا جائے۔ اس کے علاوہ محکموں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ خوراک اور مشروبات کی فراہمی کے لیے مقامی کاٹیج انڈسٹریز، سیلف ہیلپ گروپس، جیل کچنز اور غذائی باغات سے استفادہ کریں۔




