اتوار کو اتر پردیش کے سنبھل ضلع میں واقع سلیم پور سالار عرف حاجی پور گاؤں میں سرکاری بلڈوزروں نے ایک مسجد اور مدرسے کو منہدم کر دیا۔ یہ گاؤں سنبھل شہر سے تقریباً ۱۲؍ کلومیٹر دور ہے۔ حکام کے مطابق یہ انہدام گرام سبھا کی سرکاری زمین سے تجاوزات ہٹانے کے تحت کیا گیا۔ ضلع مجسٹریٹ راجیندر پنسیا نے صحافیوں کو بتایا کہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے بلڈوزر پہنچنے سے چند گھنٹے قبل ہی مقامی باشندوں نے مبینہ طور پر خود ڈھانچہ گرانا شروع کر دیا تھا۔ ان کے مطابق، ’’ہمیں اطلاع ملی تھی کہ گاؤں والے عمارت کو گرا رہے ہیں، تاہم ہمارے بلڈوزروں نے کارروائی مکمل کی۔ ہمیں خوشی ہے کہ گاؤں والوں نے تعاون کیا۔‘‘
پنسیا نے مزید کہا کہ اس گاؤں میں سرکاری زمین محدود ہے، اس لئے قبضہ شدہ گرام سبھا اراضی کو خالی کرانا ضروری تھا۔ ان کے بقول، خالی کرائی گئی زمین ۲۰؍ مقامی دلت خاندانوں کو الاٹ کی جائے گی۔ تحصیلدار دھیریندر سنگھ نے بتایا کہ مسجد کی انتظامی کمیٹی پر ۷۸ء۸؍ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مدینہ مسجد، جو ۴۳۹؍ مربع میٹر کے پلاٹ پر قائم تھی، اس کی انتظامی کمیٹی کو دو ہفتے قبل نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ تاہم مسجد کے نگراں حاجی شمیم نے کہا کہ انتظامیہ کے اصرار پر مسجد کی اگلی دیوار خود گرائی گئی تھی، مگر بعد میں سرکاری بلڈوزروں نے مدرسہ سمیت پورا ڈھانچہ منہدم کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ زمین تقریباً ۴۰؍ سال قبل مدرسہ قائم کرنے کی شرط پر الاٹ کی گئی تھی۔
ضلع مجسٹریٹ کے مطابق انتظامیہ جلد ہی سنبھل قصبے میں شنکر چوک کے قریب واقع ملک شاہ بابا کےقبرستان کو بھی ہموار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سرکاری زمین پر قائم ہے۔ ۲۰؍ دسمبر کو بھی انتظامیہ نے سنبھل میں واقع شاہی جامع مسجد سے متصل قبرستان کے کنارے قائم دو درجن سے زائد دکانوں اور مکانات کو منہدم کیا تھا۔ اس کارروائی کے پیچھے ایک ہندوتوا گروپ کا الزام تھا کہ نومبر ۲۰۲۴ء میں مسجد کے سروے کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں انہی عمارتوں سے پتھراؤ کیا گیا۔ ضلع مجسٹریٹ کے مطابق ایک سروے میں سامنے آیا تھا کہ ان تعمیرات نے قبرستان کی ۴۷۸۰؍ مربع میٹر اراضی میں سے تقریباً ایک ہزار مربع میٹر پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا تھا۔ اسی تناظر میں ایک ہندوتوا گروپ نے مقامی عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے کہ شاہی جامع مسجد کی جگہ اس بنیاد پر حوالے کی جائے کہ مغل بادشاہ اورنگزیب نے شیو مندر کو منہدم کر کے اس کے کھنڈرات پر مسجد تعمیر کی تھی۔ یہ مقدمہ تاحال زیرِ سماعت ہے۔
سنبھل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس مزید ’’غیر قانونی عمارتوں‘‘ کی فہرست موجود ہے جن کے خلاف کارروائی کا ارادہ ہے۔ تحصیلدار دھیریندر سنگھ کے مطابق حاجی پور مسجد کے خلاف پہلی شکایت جون ۲۰۱۸ء میں موصول ہوئی تھی، تاہم دیگر مصروفیات کے باعث اس وقت کارروائی ممکن نہ ہو سکی۔
