از قلم: محمد حارث ابن ابراہیم اکرمی ندوی
انسان کی فطری خواہشات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے اندر مال کی حد سے زیادہ حرص پائی جاتی ہے، اور اسے حاصل کرنے کے لیے وہ دن رات تگ و دو کرتا رہتا ہے۔ انسان چاہے کتنا ہی مال کماتا رہے، مگر اس کی حرص کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اس کی حرص کو قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے۔ بخاری اور مسلم کی روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں:
لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
اگر ابنِ آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی خواہش کرے گا،
اور ابنِ آدم کا پیٹ قبر کی مٹی ہی بھرے گی،
اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے جو توبہ کرے۔
انسان کے اندر صرف مال ہی کی خواہش نہیں ہوتی، بلکہ ہر وہ چیز جس کے ذریعے اسے دنیا میں وقتی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے، اس کے حاصل کرنے کا وہ آرزومند رہتا ہے۔
مستقبل کے لیے تیاری اور انسان کی غفلت:
انسان فطری طور پر مستقبل کی تیاری کرنے والا ہے۔ وہ اپنے کل کو محفوظ بنانے کے لیے منصوبے بناتا ہے، مال جمع کرتا ہے، مکان تعمیر کرتا ہے اور لمبی امیدیں باندھتا ہے، مگر افسوس کہ یہ ساری تیاری اکثر صرف دنیا تک محدود رہتی ہے۔ انسان اس حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے کہ زندگی عارضی ہے اور موت کسی بھی لمحے آ سکتی ہے۔ یہی غفلت اسے اس بات پر آمادہ کر دیتی ہے کہ وہ سو برس کے سامان میں مشغول رہے، مگر اس پل کی خبر نہ لے جو اسے آخرت تک پہنچانے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ
ترجمہ:
تمہیں مال کی کثرت کی ہوس نے غافل کر دیا،
یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے۔
اگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں
کوئی انسان اپنی موت کے وقت سے باخبر نہیں۔ انسان کی موت کب آئے گی اور کس جگہ آئے گی، اس کا علم صرف اللہ کو ہے، مگر اس کے باوجود وہ دنیا کے لیے طویل منصوبے بناتا ہے، گویا ہمیشہ یہیں رہنا ہو۔ شاعر نے اس شعر میں انسانی غفلت، لمبی امیدوں اور آخرت سے بے فکری کو نہایت مؤثر اور جامع انداز میں بیان کیا ہے، اور انسان کی غیرت کو للکارنے اور اس کے ضمیر کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔
انسان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی لمبی امیدیں ہیں۔ وہ یہ جانتا ہے کہ زندگی عارضی ہے اور موت کسی بھی لمحے آ سکتی ہے، اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو اس فریب میں مبتلا رکھتا ہے کہ ابھی بہت وقت باقی ہے۔ اسی خوش فہمی میں وہ توبہ کو مؤخر کرتا ہے، اصلاح کو ٹالتا ہے اور آخرت کی تیاری کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان نہ اپنے کل کا یقین رکھتا ہے اور نہ اگلے لمحے کا۔ جو شخص آج خود کو مضبوط سمجھ رہا ہے، کل وہی بے بس ہو کر مٹی کے نیچے ہو سکتا ہے۔
لمبی امیدیں انسان کو دنیا سے جوڑ دیتی ہیں اور آخرت سے غافل کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سو برس کے سامان میں مصروف رہتا ہے، مگر اس پل کی تیاری نہیں کرتا جو اسے ہمیشہ کی زندگی کی طرف لے جانے والا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی تیاری کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لگا دے اور اللہ سے جھوٹی امیدیں باندھے۔
(جامع الترمذی)
عقل مندی کا معیار:
عام طور پر انسان عقل مندی کا معیار دنیاوی کامیابی، مال کی کثرت اور مستقبل کے بڑے منصوبوں کو سمجھتا ہے، مگر نبی کریم ﷺ نے عقل مندی کا جو معیار بتایا ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ آپ ﷺ کے نزدیک عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے تیاری کرے، جبکہ اصل ناکامی یہ ہے کہ انسان خواہشات کے پیچھے چلتا رہے اور اللہ سے لمبی لمبی امیدیں باندھے رکھے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جمع کیا جانے والا سامان یہیں رہ جانے والا ہے، اور کامیابی اسی کی ہے جو اس پل کی خبر رکھے جو اسے ہمیشہ کی زندگی تک پہنچانے والا ہے۔
عقل مندی کا تقاضا
یہ حقیقت کسی سے چھپی نہیں کہ انسان نہ اپنی عمر سے واقف ہے اور نہ موت کے وقت سے، اس کے باوجود وہ دنیا کے لیے ایسی تیاری میں لگا رہتا ہے گویا ہمیشہ یہیں رہنا ہو۔ یہی غفلت انسان کو اصل مقصدِ زندگی سے دور کر دیتی ہے۔ عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دنیا کو منزل اور ہمیشہ کی جگہ نہیں بلکہ راستہ سمجھے، اور یہ سمجھے کہ اسی راستے سے ہم گزر رہے ہیں، ایک دن یہ راستہ ختم ہو جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اس پل کی تیاری کرے جو اسے آخرت تک صحیح سلامت پہنچانے والا ہے۔ جو شخص آج اپنے نفس کا محاسبہ کر لے، وہی کل کی ندامت سے بچ سکتا ہے، ورنہ حقیقت یہی ہے کہ سامان تو سو برس کا جمع ہو جاتا ہے، مگر پل کی خبر نہیں رہتی۔
