منگلورو سمیت ساحلی کرناٹک میں اہم قومی شاہراہ کو چھ لین بنانے کا منصوبہ

منگلورو 11 جنوری: نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) نے ساحلی کرناٹک میں بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ کے پیش نظر اہم قومی شاہراہوں کو جدید بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس مقصد کے لیے کنداپورہ–تلاپڑی، سورتکل–بی سی روڈ اور ننتور–تلاپڑی سیکشن کو اپ گریڈ کرنے کے لیے فزیبلٹی اسٹڈیز جاری ہیں اور ان کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔

حکام کے مطابق کنداپورہ–تلاپڑی شاہراہ کے اپ گریڈ پر تقریباً 700 کروڑ روپے اور سورتکل–بی سی روڈ سیکشن پر تقریباً 400 کروڑ روپے لاگت آنے کا اندازہ ہے۔ بی سی روڈ–سورتکل فور لین شاہراہ کو بیس برس قبل تعمیر کیا گیا تھا، تاہم ٹریفک میں غیر معمولی اضافے اور سروس روڈز کی عدم موجودگی کے باعث اب یہ راستہ شدید بھیڑ کا شکار ہے۔ این ایچ اے آئی اس سیکشن کو چھ لین تک توسیع دینے اور دونوں اطراف سروس روڈز تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

کنداپورہ–سورتکل سیکشن، جسے 2010 میں چار لین کے طور پر منظور کیا گیا تھا اور 2013 تک مکمل ہونا تھا، اب تک مکمل نہیں ہو سکا۔ اس صورت حال کے پیش نظر این ایچ اے آئی نے اس شاہراہ کو بھی از سر نو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اتھارٹی کے مطابق تفصیلی تکنیکی ڈیزائن اور ڈی پی آر (تفصیلی پراجیکٹ رپورٹ) دھرووا کنسلٹنسی تیار کرے گی۔ برہماور، کوٹا، پڈوبیدری اور کلپو میں نئے فلائی اوورز کی تعمیر بھی زیر غور ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تلپاڑی–کنداپورہ شاہراہ پر سروس روڈز کا جال بچھانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ فی الحال 25 کلومیٹر سروس روڈ موجود ہے، 13 کلومیٹر زیر تعمیر ہے جبکہ 52 کلومیٹر ابھی تعمیر ہونا باقی ہے۔

حکام نے بتایا کہ سروس روڈز کی کمی کے باعث دو پہیہ گاڑیاں مرکزی شاہراہ پر آنے پر مجبور ہوتی ہیں، جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے سروس روڈز کی تعمیر کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ کنداپورہ–تلاپڑی سیکشن پر زمین کے حصول میں کسی بڑی رکاوٹ کی اطلاع نہیں ہے اور بیشتر زمین پہلے ہی دستیاب ہے۔

بی سی روڈ–سورتکل سیکشن میں موجودہ کیریج وے کی چوڑائی 23 سے 24 میٹر ہے، جسے ڈی پی آر کے تحت بڑھا کر 45 میٹر کرنے اور چھ لین شاہراہ میں تبدیل کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ کلور سے ننتور تک ایک بلند شاہراہ (ایلیویٹڈ ہائی وے) کی امکانیت کا بھی جائزہ لیا جائے گا، جس میں ہائی وے ٹریفک کے لیے سرنگ اور شہری ٹریفک کے لیے علیحدہ راستوں کا انتظام شامل ہو سکتا ہے۔

این ایچ اے آئی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ بی سی روڈ–سورتکل اور کنداپورہ–تلاپڑی سیکشن کی توسیع کو ترجیح دی گئی ہے اور دیگر ترقیاتی کام مرحلہ وار مکمل کیے جائیں گے تاکہ ساحلی اضلاع میں ٹریفک کی روانی اور سڑکوں کی حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے۔

ڈائجی ورلڈ کے شکریہ کے ساتھ