ماسٹر سیف اللہ صاحب کے انتقال پرملال پر تعزیتی نشست مؤرخہ 22 جمادی الاخری 1447ھ مطابق13 دسمبر 2025ء بروز سنیچر صبح پاؤنے بارہ بجے جامعہ اسلامیہ کی مسجد میں منعقد کی گئی جس کا آغاز شعبۂ حفظ کے استاد مولانا مرفاد صاحب مصباح ندوی کی تلاوت سے ہوا ۔ تلاوت کے بعد مہتمم جامعہ مولانا مقبول احمد صاحب کوبٹے ندوی نے تعزیتی اجلاس کا مقصد طلبہ کے سامنے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر شخص میں بہت سی خوبیاں رہتی ہیں ۔ ان تعزیتی جلسوں کا مقصد یہ ہے کہ مرحوم کی خوبیاں لوگوں کے سامنے آئیں جس کے ذریعے عوام خوبیوں سے متصف ہوں اور صالح معاشرہ وجود میں آئے ۔
استاد جامعہ مولانا انصار صاحب خطیب ندوی نے ماسٹر صاحب کی صفات کا تذکرہ فرماتے ہوئے کہا کہ ماسٹر صاحب اللہ کے نیک بندے تھے،صاف دل انسان تھے، ہر کسی سے محبت کرنے والے تھے ، مریضوں کی تیمار داری کرنے والے تھے اور تمام نبوی تعلیمات سے متصف تھے ۔
ان کے بعد سابق مہتمم جامعہ و رکن شوری جامعہ مولانا فاروق صاحب قاضی ندوی نے ماسٹر صاحب کی خوبیوں کو اپنانے کی طلبہ سے دردمندانہ گزارش کی اور ماسٹر سیف اللہ صاحب کے ساتھ جامعہ کے دیگر سابقہ ماسٹر حضرات کا ذکر خیر کیا ۔
مولانا خواجہ اکرمی ندوی مدنی نے ماسٹر صاحب کی طلبہ کے سلسلے میں محنتوں اور کوششوں کا ذکر فرماتے ہوئے کہا کہ ماسٹر صاحب کا طلبہ سے تعلق اس درجہ تھا کہ فارغ ہونے کے بعد بھی اس میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی تھی، آپ کا شمار بہترین کنڑ دانوں میں ہوتا ہے ، بچوں سے بڑی شفقت کرتے ، انہوں نے اپنی پوری زندگی سادگی میں گذاری۔
ان کے بعد استاد جامعہ مولانا عبدالرب صاحب خطیبی ندوی نے ماسٹر صاحب کی خوبیوں پر روشنی ڈالی اور فرمایا کہ ماسٹر صاحب اکثر علامہ اقبال کے اشعار سے محفلوں میں اپنی بات شروع کرتے اور طلبہ کو کچھ کر دکھانے کا جذبہ دلاتے، مزید کہا کہ ماسٹر صاحب اپنے گھر کا کام خود کرتے تھے اور گھر والوں کے لیے بھی آپ بہتر تھے ۔
اس کے بعد انگریزی کے استاد ماسٹر سمیع اللہ صاحب نے ماسٹر سیف اللہ صاحب سے قریبی تعلقات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ماسٹر سیف اللہ صاحب جامعہ کے انگریزی ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ تھے مگر ان میں دین پر قربان ہونے کی بے انتہا تمنا تھی ، اکثر شعر “ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ” سنا کر قربانی کا جذبہ بیدار کرتے۔
ان کی سیر حاصل گفتگو کے بعد استاد محترم مولانا سمعان صاحب خلیفہ ندوی نے ماسٹر سیف اللہ صاحب کے تذکرہ خیر کو منظوم شکل میں پیش کیا جسے استاد جامعہ مولانا زفیف شنگیری ندوی اپنی دلکش انداز میں پیش کی۔
استاد جامعہ مولانا الیاس فقیہ احمدا ندوی نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات اور تاثرات کا اظہار فرمایا اور کہا کہ دینی غیرت ماسٹر صاحب میں بہت زیادہ تھی اور ہر نازک موڑ پر احتیاط اور دور اندیشی سے کام لیتے اور طلبہ کو ہمیشہ دین کا داعی اور اسلام کا سپاہی بننے کی ترغیب دیتے ۔
اسی طرح دیگر اساتذہ اور ذمہ داران نے ان کی صفات اور اخلاق بیان کیے جن میں سر فہرست نائب ناظم جامعہ جناب خلیل الرحمٰن منیری ، ماسٹر صاحب کے فرزند جناب شہباز اور ان کے داماد ظہیر صاحب وغیرہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ان کے اسلام سے محبت کوٹ کوٹ بھری ہوئی تھی جب کبھی کسی اخبار میں اسلام کے خلاف مواد دیکھتے تو فوراً اس اخبار کے ایڈیٹر سے رابطہ کرتے اور اس کی اصلاح کی کوشش کرتے۔
آخر میں صدر جامعہ مولانا عبدالعلیم قاسمی صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار فرماتے ہوئے فرمایا کہ ماسٹر صاحب ہر طالب علم پر خصوصی محنت کرتے اور ہر طالب علم سے پدرانہ تعلق رکھتے تھے۔
صدر جامعہ نے اپنی گفتگو کے بعد دعا پر اس تعزیتی اجلاس کا اختتام فرمایا ۔
اللہ تعالی مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے، ان کے سیئات کو حسنات میں مبدل فرمائے اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
رپورٹ : منعام حسین سعدا
معتمد بزم صحافت ( اللجنۃ العربیۃ )
