روسی تیل کی درآمدات کا ڈیٹا خفیہ ، آر ٹی آئی کے تحت معلومات دینے سے انکار

سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے روس سے ہندوستان کو ہونے والی خام تیل کی درآمدات کی کمپنی وار تفصیلات کو آر ٹی آئی کے تحت عام کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ کمیشن نے وزارت پیٹرولیم کے تحت کام کرنے والے ادارے پیٹرولیم پلاننگ اینڈ اینالیسس سیل کے اس فیصلے کی مکمل توثیق کی ہے جس میں ان معلومات کو تجارتی راز اور خفیہ نوعیت کا قرار دیا گیا تھا۔

درخواست گزار کی جانب سے دائر کی گئی آر ٹی آئی میں جون دو ہزار بائیس سے جون دو ہزار پچیس کے درمیان روس سے درآمد کیے گئے خام تیل کی مکمل تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔ اس درخواست میں انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پیٹرولیم، ہندوستان پیٹرولیم، او این جی سی ودیش، ریلائنس انڈسٹریز اور نایرا انرجی جیسی بڑی کمپنیوں کے درآمدی اعداد و شمار کی مانگ کی گئی تھی۔ سینٹرل پبلک انفارمیشن آفیسر نے آر ٹی آئی ایکٹ دو ہزار پانچ کی دفعہ آٹھ کے تحت مؤقف اختیار کیا کہ ملک اور کمپنی وار خام تیل کی درآمدات کی تفصیلات تجارتی اور خفیہ نوعیت کی ہیں جنہیں پبلک ڈومین میں نہیں لایا جا سکتا۔

حکام نے البتہ یہ واضح کیا کہ خام تیل کی مجموعی درآمدات، جس میں مقدار اور قیمت شامل ہے، کا مجموعی ڈیٹا سرکاری ویب سائٹ پر ہر خاص و عام کے لیے دستیاب ہے۔ فرسٹ اپیلٹ اتھارٹی نے بھی معلومات چھپانے کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ حالیہ سماعت کے دوران درخواست گزار نے کمیشن کے سامنے دلیل دی کہ اسے نامکمل معلومات دی جا رہی ہیں اور وہ محض یہ جاننا چاہتا ہے کہ عالمی دباؤ کے درمیان ہندوستان کا تیل کا شعبہ کس حکمت عملی کے تحت کام کر رہا ہے۔

روس سے تیل کی درآمد کا معاملہ گزشتہ چند برسوں سے بین الاقوامی سطح پر شدید بحث اور سفارتی تنازعات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد امریکہ سمیت مغربی ممالک نے ماسکو پر کڑی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ان پابندیوں کے بعد ہندوستان پر بھی مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ وہ روسی تیل کی خریداری میں کمی لائے، تاہم نئی دہلی نے اپنے ملکی مفاد اور توانائی کی ضروریات کو ترجیح دیتے ہوئے سستے داموں روسی خام تیل کی خریداری جاری رکھی۔

یہ معاملہ حال ہی میں ایک بار پھر اس وقت سرخیوں میں آیا جب امریکہ میں ایک پروگرام کے دوران راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سینئر رہنما رام مادھو نے ایک متنازعہ بیان دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستان نے امریکی دباؤ کی وجہ سے ایران اور روس سے تیل خریدنے کے حوالے سے کچھ فیصلے کیے اور ٹیرف کی شرائط قبول کیں۔ اس بیان سے ایک بڑا سفارتی تنازعہ کھڑا ہو گیا، جس کے فوراً بعد انہیں اپنا بیان واپس لینا پڑا اور انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کا دعویٰ غلط تھا۔

سی آئی سی کی جانب سے رازداری کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ بین الاقوامی تجارتی معاہدوں اور ملکی توانائی کی سیکیورٹی کے معاملات میں حکومت کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اسٹریٹجک نوعیت کے ان سودوں کی تفصیلی معلومات کو خفیہ رکھنا سرکاری پالیسی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔

شیئر کریں۔