مصنوعی ذہانت سے زیادہ ماحولیات کا تحفظ ضروری: حیدرآباد میں گرین سیکیور فاؤنڈیشن کا سیمینار، پودے لگانے اور پلاسٹک کے بائیکاٹ کی اپیل

موجودہ دور میں جہاں دنیا مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس جیسی جدید ترین ٹیکنالوجی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، وہیں انسانی بقا کے لیے سب سے بڑا چیلنج ماحولیاتی آلودگی اور قدرتی وسائل کا تحفظ بن چکا ہے۔ اسی اہم ترین موضوع پر عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے حیدرآباد کے مشہور بی ایم برلا سائنس میوزیم کے بھاسکر آڈیٹوریم میں ‘گرین سیکیور فاؤنڈیشن’ کے زیر اہتمام ماحولیاتی بحالی اور جنگلات کے تحفظ پر ایک عظیم الشان سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم اجلاس میں ملک کے نامور سائنسدانوں، پروفیسرز، ماہرین تعلیم، سول سرونٹس، کاروباری شخصیات اور پالیسی سازوں نے شرکت کی اور بڑھتی ہوئی عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کے پیش نظر ماحولیاتی تحفظ کو وقت کا سب سے بڑا تقاضہ قرار دیا۔

رپوٹس کے مطابق سیمینار سے آئی آر ایس آفیسر جناب این بالا رام (حیدرآباد)، آئی ایف ایس آفیسر جناب راہل جادھو (منچریال)، وہاری او ٹی ٹی کے بانی جناب اے ایل نتھن کمار، حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی (HCU) کی سینئر پروجیکٹ سائنسدان ڈاکٹر پونا سنگھل، ‘ان میوٹ’ کی بانی محترمہ شلپا گڈورو، پروفیسر محمد حسین، گرین سیکیور فاؤنڈیشن کے سی ای او مسٹر آدتیہ پالوی اور صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ سماجی رہنما ڈاکٹر ساجدہ خان نے خصوصی خطاب کیا۔ مقررین نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ جدید طرز زندگی اور آرام پسندی نے انسان کو فطرت سے دور کر دیا ہے۔ ماضی کے برعکس اب دیر تک جاگنا اور صبح دیر سے اٹھنا معمول بن چکا ہے، جس کی وجہ سے دنیا کی ۹۹ فیصد آبادی صحت بخش اور تازہ ہوا سے محروم ہو چکی ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا کہ درختوں کے تحفظ اور انسانی تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے اب ان موضوعات کو اسکولوں اور کالجوں کے تعلیمی نصاب میں لازمی طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔

ماہرینِ صحت اور سائنسدانوں نے سیمینار کے دوران پلاسٹک اور ڈسپوزایبل اشیاء کے استعمال کے خلاف سخت وارننگ دی۔ مقررین نے انکشاف کیا کہ چائے اور گرم مشروبات کے لیے استعمال ہونے والے کاغذی کپ (پیپر کپ) کے اندرونی حصے میں لگی کیمیکل پلاسٹک کی تہہ گرمی کے باعث پگھل کر پیٹ میں جاتی ہے، جو کینسر جیسی مہلک بیماریوں کا سبب بن رہی ہے۔ اس کے سدباب کے لیے عوام کو کاغذی کپ کے بجائے روایتی اسٹیل کے کپ اور گھروں کے فریج میں پلاسٹک کی بوتلوں کے بجائے اسٹیل کی بوتلوں میں پانی رکھنے کا مشورہ دیا گیا۔ حیدرآباد کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مقررین نے افسوس کا اظہار کیا کہ تاریخی شہر اب ایک ‘کانکریٹ کے جنگل’ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے، جہاں سائے دار درختوں کی جگہ بلند و بالا عمارتوں نے لے لی ہے۔ اس موقع پر طلبا سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے گھر، محلے اور اسکول کے اطراف کم از کم ایک پودا ضرور لگائیں اور اس کی پرورش کی ذمہ داری لیں۔

سیمینار میں روزمرہ کی زندگی میں خوراک اور پانی کے ضیاع کا معاملہ بھی شدت سے اٹھایا گیا۔ ماہرین نے کہا کہ دعوتوں اور شادیاں میں ضرورت سے زیادہ کھانا پلیٹ میں لینے اور پینے کے بعد پانی کی بوتلوں میں آدھا پانی چھوڑ دینے کی روایت ایک سماجی جرم ہے۔ پانی کی ایک ایک بوند قیمتی ہے اور بچوں میں بچپن ہی سے اس کے تحفظ کا شعور بیدار کرنا والدین کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں ایک عملی قدم اٹھاتے ہوئے جے سی آئی سکندرآباد کی نمائندہ شلپا دیوتا لنگا کی جانب سے تمام سامعین اور شرکاء میں اسٹیل کی پانی کی بوتلیں مفت تقسیم کی گئیں تاکہ پلاسٹک کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔

پروگرام کے اختتام پر گرین سیکیور فاؤنڈیشن کی جانب سے تمام شرکاء کو شرکت کی اسناد کے ساتھ ساتھ چھوٹے پودے بھی تحفے میں دیے گئے تاکہ وہ اپنے گھروں میں شجرکاری کا آغاز کر سکیں۔ تقریب کے دوران تعلیمی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں ممتاز ماہر تعلیم جناب محمد حسام ریاض، نامور شاعر جناب لطیف الدین لطیف، این آر آئی جناب محمد حسین قادری عارف، ڈاکٹر زلیخہ اور فیشن ڈیزائنر شہناز خان کی شال پوشی کی گئی اور انہیں تہنیت پیش کی گئی۔ تمام حاضرین اور معززین نے مشترکہ طور پر عہد کیا کہ وہ ماحولیات کے تحفظ، صفائی ستھرائی کو برقرار رکھنے اور سیمینار میں دی گئی ہدایات پر خود بھی عمل کریں گے اور معاشرے میں بھی اس پیغام کو عام کریں گے۔

شیئر کریں۔