(یہ مضمون کنڑا زبان میں ہے۔ اس کا اردو ترجمہ افادۂ عام کے لیے شائع کیا جارہا ہے)
5 ستمبر کو ملک بھر میں یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا، انہیں مبارکباد دی جائے گی، اعزازات سے نوازا جائے گا ۔ ’’استاد ہی راستہ دکھانے والا ہے‘‘ اور ’’اساتذہ قوم کے معمار ہیں‘‘ جیسے جملے سننے کو ملیں گے۔ لیکن ان تقریبات کے درمیان ایک بار ان اساتذہ کے دل کی بات سننے کی بھی ضرورت ہے جو روزانہ کلاس روم کی چہار دیواری کے اندر کھڑے ہوکر نئی نسل کی تربیت کرتے ہیں۔
آج جین زی کے دور میں طلبہ کے مزاج میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور ہر لمحہ بدلتی معلومات کی دنیا نے بچوں کے سوچنے کے انداز کو بھی بدل دیا ہے۔ ان کے سامنے پوری دنیا کھلی ہوئی ہے، سوال کرنے کا حوصلہ بڑھا ہے اور اپنے حقوق کے بارے میں شعور بھی زیادہ ہوا ہے۔ یہ یقیناً ایک اچھی پیش رفت ہے۔ لیکن حقوق کے شعور کے ساتھ فرائض کا احساس، آزادی کے ساتھ نظم و ضبط اور سوال کرنے کے حق کے ساتھ بات سننے کا جذبہ بھی پیدا ہونا چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آج کے استاد کی مشکلات شروع ہوتی ہیں۔
بچوں کی اصلاح کیسے کی جائے؟
ایک استاد کلاس میں طالب علم سے کہتا ہے: ’’اپنے نوٹس مکمل کرو، کل مجھے دکھانا۔‘‘ دوسرا استاد طالب علم کو متنبہ کرتا ہے: ’’سبق کے دوران بات مت کرو۔‘‘ کوئی استاد امتحان کی تیاری نہ کرنے والے طالب علم سے کہتا ہے: ’’اگر اسی طرح جاری رہا تو تمہارے نتیجے پر اثر پڑے گا۔‘‘
یہ سب ایک استاد کے روزمرہ فرائض کا حصہ ہیں۔ لیکن موجودہ حالات میں کبھی کبھی یہی باتیں اساتذہ کے لیے تشویش کا سبب بن جاتی ہیں۔ ان کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’’کیا بچے کو ڈانٹنا بھی غلط ہے؟ کیا نظم و ضبط کی تلقین کرنا بھی غلط ہے؟ اگر کوئی بچہ غلطی کرے تو اسے متنبہ کرنا بھی مسئلہ بن سکتا ہے؟‘‘
اگر کوئی استاد طالب علم کی غلطی دیکھنے کے باوجود خاموش رہے تو اس پر الزام لگ سکتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔ لیکن اگر وہ اس غلطی کی اصلاح کی کوشش کرے تو یہ شکایت بھی سامنے آسکتی ہے کہ استاد نے بچے کے دل کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
چنانچہ بعض اساتذہ آہستہ آہستہ اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ ’’بچوں کو زیادہ کچھ نہ کہیں، آپ کا کام صرف پڑھانا ہے۔‘‘ لیکن کیا استاد صرف کتاب پڑھانے والا شخص ہے؟
استاد صرف سبق پڑھانے والا نہیں
استاد طالب علم کو صرف حروف اور کتابیں نہیں پڑھاتا بلکہ اسے زندگی کا شعور بھی دیتا ہے۔ وقت کی پابندی، نظم و ضبط، دیانت داری، صبر، ایک دوسرے کا احترام اور ذمہ داری کا احساس۔ یہ سب تعلیم کا لازمی حصہ ہیں۔
جس طرح استاد ریاضی کے غلط جواب کی اصلاح کرتا ہے، اسی طرح زندگی میں اٹھائے جانے والے غلط قدم کی اصلاح کی ذمہ داری بھی کسی حد تک استاد پرعائد ہوتی ہے۔
فرض کیجیے ایک طالب علم روزانہ کلاس میں دیر سے آتا ہے۔ اگر استاد اسے کچھ نہ کہے تو کیا ہوگا؟ ممکن ہے کہ کل وہ کالج بھی دیر سے پہنچے اور آگے چل کر دفتر میں بھی تاخیر سے پہنچنے کی عادت بنا لے۔ وقت کی پابندی کی اہمیت سکھانے کی پہلی جگہ اسکول ہی ہے۔
لیکن اگر استاد سختی سے کہے کہ ’’کل سے وقت پر آنا‘‘ تو اسے سزا سمجھا جائے یا بچے کے مستقبل کے بارے میں استاد کی فکر؟ اس سوال پر معاشرے کو غور کرنا چاہیے۔
والدین کی تشویش کو بھی سمجھنا ضروری ہے
اس معاملے میں صرف اساتذہ کو موردِ الزام ٹہرانا بھی درست نہیں۔ آج کے والدین کی تشویش کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کی حفاظت، ذہنی سکون اور عزتِ نفس کے بارے میں والدین کا زیادہ حساس ہونا ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔ ماضی میں جن بعض معاملات کو بغیر سوال کیے برداشت کرلیا جاتا تھا، آج والدین ان کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ بچوں کے مفاد کے پیش نظر یہ ایک ضروری تبدیلی ہے۔
لیکن ہر تنبیہ کو ہراساں کرنا اور ہر نظم و ضبط کی کارروائی کو تشدد سمجھنے کا رویہ بھی خطرناک ہے۔
بچے کی شکایت سننا والدین کی ذمہ داری ہے، لیکن شکایت سنتے ہی استاد کو قصوروار قرار دینا انصاف نہیں۔ پہلے یہ جاننا چاہیے کہ اصل میں ہوا کیا تھا۔ استاد کی بات بھی سنی جائے اور بچے کا موقف بھی سمجھا جائے، اس کے بعد مناسب فیصلہ کیا جائے۔
ایک شکایت استاد کی زندگی پر کیا اثر ڈال سکتی ہے؟
چاہے استاد سرکاری اسکول میں کام کرتا ہو یا نجی ادارے میں، اس کے خلاف شکایت درج ہونے کے بعد پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ کو بھی معاشرے کو سمجھنا چاہیے۔ ایک شکایت کے بعد تفتیش، نوٹس، وضاحت طلبی اور انتظامیہ کی جانب سے دباؤ جیسے مراحل سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ نجی اداروں میں ملازمت کے تحفظ کے حوالے سے بھی تشویش پیدا ہوسکتی ہے۔
اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟
اگر اساتذہ میں یہ سوچ پیدا ہوگئی کہ ’’میں کیوں کسی معاملے میں پڑوں؟‘‘ تو آخرکار اس کی قیمت پورے تعلیمی نظام کو ادا کرنی پڑے گی۔
استاد طالب علم کی غلطی دیکھ کر خاموش ہوجائے گا، طالب علم غلطی کرے گا لیکن اسے کوئی کچھ نہیں کہے گا، والدین کا اسکول پر اعتماد کم ہوگا اور اسکول انتظامیہ اساتذہ پر دباؤ ڈالے گی۔ اس طرح آہستہ آہستہ تعلیم کی اصل روح کمزور ہوجائے گی۔
’’میرے بچے کو کچھ نہ کہیں‘‘ یہ رویہ کہاں تک درست ہے؟
کبھی کبھی والدین کی طرف سے یہ جملہ سننے کو ملتا ہے: ’’میرے بچے کو ڈانٹنا نہیں۔‘‘ اس جملے کے پیچھے بچے سے بے پناہ محبت ہوتی ہے۔ لیکن اگر یہی محبت بچے کی غلطی پر کبھی سوال نہ کرنے کی حد تک پہنچ جائے تو یہ اس کے مستقبل کے لیے فائدہ مند نہیں۔
گھر واپس آنے والے بچے کی بات سننے کے ساتھ والدین کو یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ’’استاد نے ایسا کیوں کہا؟‘‘ اور ساتھ ہی یہ سوال بھی ہونا چاہیے کہ ’’تم نے کیا کیا تھا؟‘‘
یہ بچے کو سزا دینا نہیں بلکہ اسے ایک ذمہ دار انسان بنانے کی طرف پہلا قدم ہے۔
طلبہ سے بھی ایک بات
عزیز طلبہ! آپ کو اپنے حقوق کا علم ہونا چاہیے۔ اگر آپ کے ساتھ ناانصافی ہو تو سوال کرنے کا حق آپ کو حاصل ہے۔ لیکن اپنی ذمہ داریوں کو بھی مت بھولیے۔
استاد جب آپ کو ڈانٹتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ آپ کا دشمن ہو۔ کبھی کبھی اس کی سخت بات کے پیچھے بھی آپ کے مستقبل کی فکر اور آپ کے لیے محبت چھپی ہوتی ہے۔
ایک بار اپنی اسکول کی زندگی کو پلٹ کر دیکھیے۔ جب آپ نے غلطی کی تو آپ کو کس استاد نے متنبہ کیا؟ امتحان کے لیے پڑھنے کی ترغیب کس نے دی؟ جب آپ مایوس ہوئے تو حوصلہ کس نے بڑھایا؟ آپ کی صلاحیت کو پہچان کر آپ کو آگے بڑھنے کا موقع کس نے دیا؟
ممکن ہے دس سال بعد آپ کو استاد کی سخت باتیں یاد نہ رہیں، لیکن اس کی طرف سے آپ کی زندگی کو دی گئی سمت ضرور یاد رہے۔
اساتذہ کے لیے بھی خود احتسابی ضروری ہے
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر غلطی کا دفاع استاد کے حق میں کیا جائے۔ یہ بھی وہ زمانہ نہیں کہ استاد کو بے لگام اختیار دے دیا جائے۔ بچوں کی عزت، حفاظت اور انسانی حقوق کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
جسمانی سزا، تذلیل، امتیازی سلوک یا کسی بھی ایسے رویے کو جس سے بچے کی ذہنی کیفیت متاثر ہو، نظم و ضبط کا نام نہیں دیا جاسکتا۔
نظم و ضبط اور تشدد ایک چیز نہیں۔ سختی اور ظلم ایک چیز نہیں۔ تنبیہ اور تذلیل ایک چیز نہیں۔
اس لیے اساتذہ کو بھی اپنی گفتگو، رویے اور نظم و ضبط کے طریقوں کے حوالے سے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بچے کی اصلاح کرتے وقت اس کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو، اس کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے۔
اسکول اور گھر کے درمیان مضبوط رابطہ ضروری ہے
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ استاد کے ہاتھ باندھ دیے جائیں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ استاد کو صحیح رہنمائی اور ضروری تعاون فراہم کیا جائے۔
اسکولوں میں اساتذہ اور والدین کے درمیان رابطے کا نظام مضبوط ہونا چاہیے۔ طالب علم، استاد اور والدین کے درمیان کھلی اور مثبت گفتگو کا ماحول ہونا چاہیے۔
اگر کسی استاد کے خلاف شکایت آئے تو اسے فوراً مجرم سمجھنے کے بجائے حقائق کی جانچ کا مناسب نظام ہونا چاہیے۔ اسی کے ساتھ اگر بچوں کے حقوق متاثر ہوں تو مناسب کارروائی کا بھی مؤثر نظام موجود ہونا چاہیے۔
یعنی بچوں کے حقوق اور اساتذہ کے احترام کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنے کے بجائے دونوں کا تحفظ کرنے والا متوازن نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
تو پھر یومِ اساتذہ کا حقیقی مطلب کیا ہے؟
5 ستمبر کو اسکولوں میں اساتذہ کو پھول پیش کرنے، شال پہنانے، یادگاری تحائف دینے سے ہی یومِ اساتذہ بامعنی نہیں ہوجاتا۔
جب استاد کی بات کو احترام، طالب علم کے حقوق کو تحفظ، والدین کو اعتماد اور استاد کو اپنے پیشے کے حوالے سے تحفظ حاصل ہوگا، تب ہی یومِ اساتذہ کا حقیقی مقصد پورا ہوگا۔
استاد کو اندھا اختیار نہیں چاہیے اور طالب علم کو بے لگام آزادی بھی نہیں چاہیے۔ والدین کو بھی خوف میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ ضرورت ہے تو باہمی احترام، ذمہ داری اور اعتماد کی۔
ایک زمانے میں استاد کے ہاتھ میں چھڑی نظم و ضبط کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ آج وہ چھڑی کلاس روم سے غائب ہوچکی ہے۔ یہ اچھی بات ہے۔ لیکن اس کی جگہ گفتگو، سمجھانے، باہمی رابطے اور اقدار پر مبنی تعلیم کو لانا ہوگا۔
لیکن اگر اس مقصد کے نام پر استاد کے ہاتھ ہی مکمل طور پر باندھ دیے جائیں تو پھر بچوں کو راستہ کون دکھائے گا؟
استاد کے ہاتھ میں چھڑی ہونا ضروری نہیں، لیکن اس کے ہاتھ میں طالب علم کی اصلاح، تربیت اور رہنمائی کا اخلاقی اختیار ضرور ہونا چاہیے۔ اس اختیار کا احترام استاد کو دیا جانے والا تحفہ نہیں بلکہ آنے والی نسل کے تئیں ہماری ذمہ داری ہے۔
اس یومِ اساتذہ کے موقع پر پھول پیش کرنے سے پہلے معاشرے کو اس ایک سوال کا جواب تلاش کرنا چاہیے:
کیا ہم صرف اساتذہ کو اعزاز دے رہے ہیں، یا ایسا ماحول بھی بنا رہے ہیں جہاں وہ بے خوف ہوکر اپنی ذمہ داری ادا کرسکیں؟
اس سوال کا جواب ہی ہمارے تعلیمی نظام کے حقیقی معیار کی پیمائش ہوگا۔




